کپاس کی کم قیمت ملنے اور زرعی پانی کی قلت کیخلاف عمر کوٹ میں کاشتکاروں کا احتجاج 
DAILY PAKISTAN

کپاس کی کم قیمت ملنے اور زرعی پانی کی قلت کیخلاف عمر کوٹ میں کاشتکاروں کا احتجاج 

Jun 26, 2023 | 03:08 PM

عمرکوٹ(سید ریحان شبیر ) کاشتکاروں  نے کپاس  کی فصل کےکم نرخ ملنے اور  ضلع میں زرعی پانی کی خودساختہ قلت کےخلاف  احتجاج مظاہرہ پریس کیا ۔ عمرکوٹ پریس کلب کے باہر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے انڈس ایگریکلچر فاؤنڈیشن کے رہنماؤں نے کہاکہ ناجائز منافع خور ہماری فصلوں کے جائز نرخ نہیں دے  رہے، حکومت کی جانب سے کپاس کے نرخ 8ہزار 5سو روپے فی من مقرر ہیں لیکن  ناجائز منافع خور ہمیں کپاس کے 6ہزار 5سو روپے فی من دے رہیں ہیں جو سراسر کاشتکار  کےساتھ ظلم وناانصافی ہے یہ ہمارا اور ہمارے بچوں کا معاشی قتل ہے ۔ ان کاشتکاروں کا کہنا تھا کہ گذشتہ سال سیلابی بارشوں سے ہمارا لاکھوں روپے کا نقصان ہوا ،  روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی نے کھاد ،ڈیزل ،اور پھر زرعی ادویات کی قیمتوں میں اضافے نے ہماری کمر توڑ کر رکھ دی ہے ۔  دوسری طرف نارا کینال میں سے ضلع کے کاشتکاروں کو انکے حصہ کا زرعی پانی نہیں مل رہا،  کاشتکاروں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عمرکوٹ ضلع کے تمام چھوٹے بڑے کاشتکاروں کو ناراکینال سے حصہ مطابق زرعی پانی دیاجائے اور کپاس کی فصل کا ریٹ کم ازکم دس ہزار روپے مقرر کیاجائے۔

فلور مل مالکان نے گندم درآمد کرنے کی اجازت مانگ لی
DAILY PAKISTAN

فلور مل مالکان نے گندم درآمد کرنے کی اجازت مانگ لی

May 28, 2023 | 02:21 PM

کراچی (ویب ڈیسک) پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن نے صوبائی حکام کی جانب سے گندم خریداری میں رخنے ڈالنے پر گندم درآمد کرنے کی اجازت مانگ لی۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق پفما کی جانب سے ایک ملین ٹن گندم درآمد کرنے کی اجازت مانگی گئی ہے۔ پفما سائوتھ زون چیئرمین چوہدری عامر عبداللہ نے اس حوالے سے بتاتے ہوئے کہا کہ ہم نے وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کو ایک ملین ٹن گندم کی درآمد کی اجازت دینے کی درخواست کی ہے، جس پر کام جاری ہے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ درآمدی گندم 85-90 روپے فی کلو تک پڑے گی، جبکہ مقامی گندم 125 روپے فی کلو تک دستیاب ہے، اس کے مطابق جو آٹا اس وقت 110 روپے کلو مل رہا ہے، وہ 150 سے 175 روپے تک میں حاصل ہوگا۔چوہدری عامر عبداللہ نے سوال کیا کہ وزیراعظم نے گندم کی بمپر فصل ہونے کا دعوی کیا تھا، اس کے باجود گندم مارکیٹ میں موجود کیوں نہیں ہے؟ انھوں نے بتایا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومتی سرپرستی کی وجہ سے ذخیرہ اندوز سرگرم ہیں اور گندم کو ذخیرہ کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سندھ اور پنجاب کی حکومتیں فلور ملز کو گندم خریدنے نہیں دے رہیں، جبکہ ذخیرہ اندوزوں کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے، اگر یہ پالیسی جاری رہے تو آٹے کی قیمتیں مزید بڑھ جائیں گی۔چوہدری عامر نے مطالبہ کیا کہ حکومت گندم کو صوبائی کے بجائے نیشنل سبجیکٹ قرار دے، فلورملز کو پیداواری سیزن کے دوران گندم خریداری کی اجازت ہونی چاہیے، انھوں نے مطالبہ کیا کہ فلور ملز کو سارا سال گندم امپورٹ کرنے کی اجازت ہونی چاہیے، تاکہ فلور ملز آٹا اور دیگر مصنوعات بنا کر ایکسپورٹ کرسکے۔

گاڑی کے نیچے پھنسی برہنہ لڑکی اور ڈرائیور 25 منٹ تک گاڑی چلاتا رہا
DAILY PAKISTAN

گاڑی کے نیچے پھنسی برہنہ لڑکی اور ڈرائیور 25 منٹ تک گاڑی چلاتا رہا

Jan 04, 2023 | 17:05:PM

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں گاڑی کے نیچے گھسیٹ کر ایک لڑکی کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق یہ واردات بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ہوئی جہاں 20سالہ انجلی نامی لڑکی برہنہ حالت میں ایک گاڑی کے نیچے پھنسی ہوئی تھی اور ڈرائیور مسلسل گاڑی چلاتا رہا، جس سے انجلی کی موت ہو گئی۔ابتدائی طور پر یہ جنسی زیادتی اور قتل کا کیس لگ رہا تھا تاہم پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی نہیں کی گئی۔ اس واقعے کے عینی شاہد نے اے این آئی کو بتایا کہ یہ پچھلی رات تین بجے کے قریب کا واقعہ ہے۔وہ اپنی دودھ کی دکان کھولنے آیا۔ ابھی وہ دکان کھول ہی رہا تھا کہ ایک کار وہاں سے گزری ، جس سے اس طرح کی آواز آ رہی تھی جیسے اس کا ٹائر پھٹا ہوا ہو۔دکان دار بتاتا ہے کہ میں نے دیکھا تو گاڑی کا ٹائر نہیں پھٹا تھا بلکہ اس کے نیچے کوئی شخص برہنہ حالت میں اٹکا ہوا تھا۔ اس وقت یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ لڑکی ہے یا لڑکا۔ میں نے پولیس کو اطلاع دی۔ چند منٹ بعد گاڑی واپس میری دکان کے سامنے سے گزری او ر اس وقت بھی اس کے نیچے لاش پھنسی ہوئی تھی۔دکان دار کہتا ہے کہ میں نے دوبارہ پولیس والوں کو کال کی اور انہوں نے مجھے گاڑی کا پیچھا کرنے کو کہا۔ وہ مسلسل لائن پر رہے اور میں اپنی سکوٹی پر گاڑی کا پیچھا کرتا رہا۔مزید 25منٹ تک وہ شخص سڑکوں پر گاڑی گھماتا رہا، ایک بار وہ پولیس والوں کے سامنے سے گزرا اور میں نے پولیس والوں کو بتایا بھی، مگر انہوں نے اسے نہیں روکا۔ یہ دیکھ کر میں بھی واپس اپنی دکان پر چلا گیا کہ جب پولیس والے ہی نہیں پکڑ رہے تو میں کیا کر سکتا ہوں۔ صبح مجھے میڈیا سے علم ہوا کہ کار کے نیچے لڑکی پھنسی ہوئی تھی۔ پولیس کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ یہ ایک روڈ ایکسیڈنٹ تھا، لڑکی گاڑی کے نیچے آئی اور اس کے پچھلے ٹائر کے قریب لڑکی کی ٹانگ گاڑی میں پھنس گئی، جس کی وجہ سے وہ گھسٹتی چلی گئی۔ ڈرائیور نے خوف کے مارے گاڑی نہیں روکی۔ کئی کلومیٹر تک گھسٹنے کی وجہ سے لڑکی کے کپڑے بری طرح پھٹ گئی اور وہ نیم برہنہ ہو گئی۔ ڈرائیور کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

گاڑی کے نیچے پھنسی برہنہ لڑکی اور ڈرائیور 25 منٹ تک گاڑی چلاتا رہا
DAILY PAKISTAN

گاڑی کے نیچے پھنسی برہنہ لڑکی اور ڈرائیور 25 منٹ تک گاڑی چلاتا رہا

Jan 04, 2023 | 17:05:PM

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں گاڑی کے نیچے گھسیٹ کر ایک لڑکی کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق یہ واردات بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ہوئی جہاں 20سالہ انجلی نامی لڑکی برہنہ حالت میں ایک گاڑی کے نیچے پھنسی ہوئی تھی اور ڈرائیور مسلسل گاڑی چلاتا رہا، جس سے انجلی کی موت ہو گئی۔ابتدائی طور پر یہ جنسی زیادتی اور قتل کا کیس لگ رہا تھا تاہم پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی نہیں کی گئی۔ اس واقعے کے عینی شاہد نے اے این آئی کو بتایا کہ یہ پچھلی رات تین بجے کے قریب کا واقعہ ہے۔وہ اپنی دودھ کی دکان کھولنے آیا۔ ابھی وہ دکان کھول ہی رہا تھا کہ ایک کار وہاں سے گزری ، جس سے اس طرح کی آواز آ رہی تھی جیسے اس کا ٹائر پھٹا ہوا ہو۔دکان دار بتاتا ہے کہ میں نے دیکھا تو گاڑی کا ٹائر نہیں پھٹا تھا بلکہ اس کے نیچے کوئی شخص برہنہ حالت میں اٹکا ہوا تھا۔ اس وقت یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ لڑکی ہے یا لڑکا۔ میں نے پولیس کو اطلاع دی۔ چند منٹ بعد گاڑی واپس میری دکان کے سامنے سے گزری او ر اس وقت بھی اس کے نیچے لاش پھنسی ہوئی تھی۔دکان دار کہتا ہے کہ میں نے دوبارہ پولیس والوں کو کال کی اور انہوں نے مجھے گاڑی کا پیچھا کرنے کو کہا۔ وہ مسلسل لائن پر رہے اور میں اپنی سکوٹی پر گاڑی کا پیچھا کرتا رہا۔مزید 25منٹ تک وہ شخص سڑکوں پر گاڑی گھماتا رہا، ایک بار وہ پولیس والوں کے سامنے سے گزرا اور میں نے پولیس والوں کو بتایا بھی، مگر انہوں نے اسے نہیں روکا۔ یہ دیکھ کر میں بھی واپس اپنی دکان پر چلا گیا کہ جب پولیس والے ہی نہیں پکڑ رہے تو میں کیا کر سکتا ہوں۔ صبح مجھے میڈیا سے علم ہوا کہ کار کے نیچے لڑکی پھنسی ہوئی تھی۔ پولیس کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ یہ ایک روڈ ایکسیڈنٹ تھا، لڑکی گاڑی کے نیچے آئی اور اس کے پچھلے ٹائر کے قریب لڑکی کی ٹانگ گاڑی میں پھنس گئی، جس کی وجہ سے وہ گھسٹتی چلی گئی۔ ڈرائیور نے خوف کے مارے گاڑی نہیں روکی۔ کئی کلومیٹر تک گھسٹنے کی وجہ سے لڑکی کے کپڑے بری طرح پھٹ گئی اور وہ نیم برہنہ ہو گئی۔ ڈرائیور کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

کسانوں کے دیرینہ مسائل اور کسان ڈے میں چھپا اِن کا حل
DAILY PAKISTAN

کسانوں کے دیرینہ مسائل اور کسان ڈے میں چھپا اِن کا حل

Dec 16, 2022 | 20:05:PM

لاہور(سرفراز علی)   پاکستان میں حالیہ سیلاب نے زراعت کے شعبے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔پاکستان کا زرعی شعبہ ملک کی معاشی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہے اورجی ڈی پی میں اضافہ کے لحاظ سے یہ ہماری معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی مانا جاتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں نے اس شعبے پر بہت منفی اثرات ڈالے ہیں۔سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے باعث ملک کو فوڈ سیکیورٹی کا خدشہ لاحق ہے۔ مشکل کی اس گھڑی میں فاطمہ فرٹیلائیزر مسائل میں گھِرے کسانوں کی معاونت کے لئے پیش پیش ہے۔فاطمہ فرٹیلائیزر موسمیاتی تبدیلی اور زراعت پر اس کے منفی اثرات سے نمٹنے کے لئے بھی بھرپور انداز میں کوشاں ہے اور ملک کے زرعی نظام میں بڑی تبدیلی لانے کے لئے پرعزم ہے۔  اس اہم شعبے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر کسان اتحاد، خالد کھوکھر  نے کہا کہ بلاشبہ کسان ہی قوم کے لیے غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے ذمہ دار ہیں ۔ ان کسانوں کی محنت کو سلام پیش کرنے کے لئے فاطمہ گروپ نے 2019میں 18 دسمبر کو کسانوں کے نام سے منسوب کیا ۔ کسان ڈے کو اس لئے بھی متعارف کرایا گیاکہ اس دن اسٹیک ہولڈرز اور پالیسی سازوں کو مکالمے میں شامل کر کے کسانوں کی اہمیت اور معاشرے میں ان کے کردارکو بلند کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم میسر آسکے۔اس طرح نہ صرف کسانوں کے مسائل سنے جاسکیں گے بلکہ ان کاحل بھی نکالا جائے گا۔ اس سال چوتھا کسان ڈے منایا جارہاہے ۔ اس موقع پر چھوٹے کسانوں کو ان کی فصلوں کی پیداوار بڑھانے، ان کی مناسب قیمت حاصل کرنے اور مارکیٹ تک رسائی کو بہتر بنانے میں سہولت فراہم کرنے کے اپنے عزم کو دہرانے کی ضرورت ہے۔   زرعی شعبے کی بحالی اور معیشت اور فوڈ سیکیورٹی میں اس کے تعاون کو بڑھانے کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے خالد کھوکھر نے بیان کیا کہ حکومت کو مختلف آبپاشی اصلاحات جیسے ڈیموں اور آبی ذخائر کی تعمیر، واٹر ریگولیٹری اتھارٹیز کا قیام اور پانی کی تقسیم کے نیٹ ورک کو بہتر بنانا چاہیے۔ ان اقدامات سے زراعت کے لیے پانی کی دستیابی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو کسانوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے اورکارپوریٹ کمپنیوں کو اس بات پر آمادہ کرنا چاہئے کہ وہ زرعی شعبے کی مجموعی پیداوار کو زیادہ سے زیادہ کرنے کے لیے اس کے ساتھ تعاون کریں۔ اس تعاون سے پاکستان کے زرعی شعبے کو جدید بنانے میں بھی مدد ملے گی اور کسانوں کو ان کے سالانہ منافع کے تحفظ میں بھی مدد ملے گی ۔ کارپوریٹ فارمنگ پاکستان کی موجودہ زراعت کے مسائل سے موثر طریقے سے نمٹنے کے لیے سب کے لیے فائدہ مند ماڈل ثابت ہو سکتی ہے۔  انہوں نے کہا کہ ”ہمیں ایک سسٹم کے تحت کام کرنے کی ضرورت ہے جہاں حکومت اور پرائیویٹ سیکٹر کے اشتراک سے کام ہو۔“   خالد کھوکھر  نے مزید کہا کہ کسانوں کے مسائل کے لیے جدید تقاضوں کے مطابق حل لانا اور منافع بخش کاشتکاری کے حصول میں ان کی مدد کرنا پاکستان کے غذائی تحفظ کے چیلنجوں سے نمٹنے کا واحد آپشن ہے۔ اس کے لیے زرعی شعبے کو جدید بنانا اور اسے پاکستان کی اقتصادی ترقی کامحور بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ فاطمہ فرٹیلائزر زراعت کے شعبے میں جدت لانے کے لئے بھرپور طریقے سے سرگرم ہے۔ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود پاکستان میں کسانوں کی حمایت اور حوصلہ افزائی سے متعلق حالات سازگار نہیں رہے تھے۔ فاطمہ فرٹیلائزرنے کسانوں کی اہمیت کے پیشِ نظران کو سہولیات فراہم کرنے کا بیڑا اٹھایا۔اس اقدام کا مقصد کسانوں کے معاشی حالات میں بہتری لانے کے لئے اہم مسائل اجاگر کرنا اور ان کے حل کے ذریعے ان کی فلاح وبہبود کو فروغ دینا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ” ہمارے ملک میں مشینری بھی پرانی ہے اور طریقے بھی۔جدید مشینری نہ ہونے کے برابر ہے اورحکومت کی جانب سے اس پر کبھی توجہ بھی نہیں دی گئی۔“  کسانوں کے ملکی معیشت اور فوڈ سیکیورٹی میں کردار اور اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسان پاکستان کی معیشت میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں اور حکومت کسانوں کو سہولیات اور مراعات دے کر مزید بہتر نتائج حاصل کرسکتی ہے۔کاشتکاروں کو مزید بااعتماد بنانے اور کام کے لئے اُن کی لگن کوبڑھانے سے زراعت کا شعبہ تیزی سے ترقی کی منزلیں طے کرسکتا ہے۔ کسان ڈے منانے کا فیصلہ بھی کاشتکار طبقہ کی محنت اور قومی ترقی میں ان کے کردار کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اُن کی حوصلہ افزائی کی بھی وجہ بنے گا جس سے کاشتکاروں میں کام کے جذبے کو تقویت ملے گی۔

وزیراعظم کی معاون خصوصی نے کسانوں  کو قرض حاصل کرنے کا آسان طریقہ بتا دیا
DAILY PAKISTAN

وزیراعظم کی معاون خصوصی نے کسانوں کو قرض حاصل کرنے کا آسان طریقہ بتا دیا

Dec 16, 2022 | 12:09:PM

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف کی معاون خصوصی شزا فاطمہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم یوتھ لون  سکیم کے تحت پہلی مرتبہ کسانوں کو زرعی پیداوار بڑھانے کیلئے قرض دیا جائے گا۔شزا فاطمہ نے کہا کہ قرض کیلئے قومی شناختی کارڈ اور اپنا موبائل فون نمبر ہونا ضروری ہے، وزیراعظم یوتھ پروگرام کی ویب سائٹ پر اپلائی کیا جا سکتا ہے، نوجوان PMYP کے نام سے موبائل ایپ پر بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔ سماء نیوز کے مطابق وزیراعظم کی معاون خصوصی شزا فاطمہ خواجہ کا کہنا تھا کہ زراعت کے شعبے سے وابستہ نوجوان حکومت سے قرض حاصل کرسکتے ہیں، وزیراعظم یوتھ لون اسکیم کے تحت پہلی مرتبہ کسانوں کو زرعی پیداوار بڑھانے کیلئے قرض دیا جائے گا، اور پہلے سال کسانوں کو قرض کی واپسی کی ضرورت نہیں ہوگی۔ معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ حکومت ملک بھر میں 50 ارب روپے کے قرض دے گی، جس سے نوجوان بیچ اور کھاد خرید سکیں گے، نوجوان ٹریکٹرز، کھادوں اور بیج کی خریداری کے ساتھ ڈیری فارمنگ کیلئے بھی رقوم حاصل کر سکیں گے، قرض کی رقم سے3 گاؤں مل کر ایک جدید ڈیری پلانٹ لگا سکتے ہیں۔ سیلاب میں جن کے مویشی بہہ گئے وہ بھی قرض لے سکتے ہیں، دور دراز علاقوں کی نوجوان نسل کو زرعی کاروبار کی طرف لانا ہے، نوجوان قرض کی رقم سے ڈیری فارم بنا کر مویشی پال سکتے ہیں، قرض سے نوجوان ٹریکٹرز یا دیگر زرعی سامان خرید سکتے ہیں۔

اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان نے پہلی بار قتل کے مجرم کو سرعام سزائے موت دیدی
DAILY PAKISTAN

اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان نے پہلی بار قتل کے مجرم کو سرعام سزائے موت دیدی

Dec 08, 2022 | 17:11:PM

کابل(مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان میں طالبان حکومت نے اپنے قیام کے بعد پہلے شخص کو کھلے عام سزائے موت دے دی۔ انڈیا ٹوڈے کے مطابق مجرم نے ایک آدمی کو قتل کیا تھا، جس کی پاداش میں عدالت کی طرف سے اسے سزائے موت سنائی گئی تھی۔ مجرم کا تعلق صوبہ فراہ کے دارالحکومت فراہ سے تھا اور اسے شہر کے ایک چوراہے پر درجنوں لوگوں کی موجودگی میں موت کے گھاٹ اتارا گیا۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ طالبان سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کی طرف سے ملک کے ججز کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ اسلامی شرعی قوانین کو ان کی روح کے مطابق نافذ کریں۔ اس کے بعد سے مختلف جرائم کے مرتکب لوگوں کو سرعام کوڑے مارے جا چکے ہیں تاہم سزائے موت پہلی بار کسی شخص کو دی گئی ہے۔اس مجرم کی سزائے موت پر عملدرآمد کے حوالے سے طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ سزا پر عملدرآمد مقتول کے باپ سے کروایا گیا، جس نے اپنے ہاتھوں سے قاتل کو کلاشنکوف سے 3گولیاں مار کر قتل کیا۔ ترجمان کی طرف سے سزائے موت پانے والے مجرم کی شناخت تاج میر ولد غلام سرور بتائی گئی ہے، جو صوبہ ہرات کے ضلع انجیل کا رہائشی تھا۔ اس نے ڈکیتی کے دوران نوجوان کو قتل کیا تھا اوراس کی موٹرسائیکل اور موبائل فون چھین کر فرار ہو گیا تھا۔ 

 راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی نےگندم کی کھڑی فصل پر ہل چلوا دیے
DAILY PAKISTAN

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی نےگندم کی کھڑی فصل پر ہل چلوا دیے

Dec 07, 2022 | 11:55:AM

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے کسانوں کی گندم کی کھڑی فصل پر ہل چلوا دیے اور ساتھ ہی احتجاج کرنے والےکسانوں اور زمین مالکان کو گرفتار بھی کرلیا گیا۔ جیو نیوز کے مطابق کسانوں اور زمین مالکان کی گرفتاری کے بعد متاثرین کے بچے اور خواتین بھی احتجاج میں شامل ہوگئے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ نے راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو صرف اس زمین پر کام کی اجازت دی تھی جہاں زمین کا ریٹ ایوارڈ ہو چکا تھا۔  راوی اربن سٹی کی تعمیر پر لاہور ہائی کورٹ نے اسٹے دے رکھا ہے، راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی عمران خان کے دورِ حکومت میں قائم کی گئی تھی ، انہوں نے نہ صرف اس کا افتتاح کیا بلکہ اس کی پروموشن بھی کی تھی لیکن حکومت جانے کے بعد اب عمران خان نے ریئل اسٹیٹ کو سب سے بڑا مافیا قرار دیتے ہوئےکہا کہ اس کی وجہ سے فوڈ سکیورٹی کے خدشات لاحق ہوگئے ہیں۔ دوسری جانب ترجمان راوی اربن ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہےکہ منصوبے کے لیے کسانوں کو اراضی کی قیمت ادا کی جاچکی ہے، ریونیو بورڈ آف پنجاب نے اراضی کی قیمت کی ادائیگی کے بعد روڈا کےنام پر اسٹیٹ لینڈ لی، گیم چینجر منصوبےکی اسٹیٹ لینڈ مافیا کے ذریعے ہتھیانے کا منصوبہ ناکام ہوگا۔

زرعی ٹیوب ویلوں کے لیے بجلی سستی، زمینداروں کے لیے خوشخبری آگئی
DAILY PAKISTAN

زرعی ٹیوب ویلوں کے لیے بجلی سستی، زمینداروں کے لیے خوشخبری آگئی

Nov 30, 2022 | 17:39:PM

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی حکومت نے زرعی ٹیوب ویلوں کے لیے بجلی 3روپے 40پیسے فی کلو واٹ آور سستی کر دی۔ نیوز ویب سائٹ’پرو پاکستانی‘ کے مطابق وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کی طرف سے وزیراعظم میاں شہباز شریف کے کسان پیکیج کے تحت زرعی ٹیوب ویلوں کے لیے بجلی کے نرخ16روپے 60پیسے فی کلوواٹ آور سے کم کرکے 13روپے فی کلوواٹ آور کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ ٹیوب ویلوں کے لیے بجلی کی اس نئی قیمت کا اطلاق یکم نومبر 2022ءسے ہو گا۔رپورٹ کے مطابق اقتصادی رابطہ کمیٹی کی طرف سے اجلاس میں الیکشن کمیشن کو بھی 15ارب روپے جاری کرنے کی منظوری دی گئی، جس میں سے 5ارب روپے فوری طور پر جاری کیے جائیں گے، جن کے خرچ ہونے کے بعد باقی 10ارب روپے بھی جاری کر دیئے جائیں گے۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے 7ارب 41کروڑ روپے مانگے گئے تھے۔وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں ای سی سی نے تین حکومتی بجلی گھروں کو 93ارب روپے کی ادائیگیوں کی منظوری بھی دی۔ ان بجلی گھروں کو ادائیگی نجی بجلی گھروں کے برابر ٹیرف پر کی جائے گی۔ اجلاس میں ہاﺅسنگ وورکس منسٹری کو مجموعی طور پر 55کروڑ 60لاکھ روپے کی تکنیکی گرانٹ جاری کی کی منظوری بھی دی گئی۔ اس گرانٹ سے گوجرہ اور ڈی آئی خان میں ترقیاتی سکیمیں مکمل کی جائیں گی۔اس کے علاوہ سیلاب بارے آگہی مہم چلانے کے لیے 2ارب روپے منظور کیے گئے۔ تمباکو کی مختلف اقسام کی کم از کم قیمت مقرر کرنے کی بھی منظور دی گئی۔سوڈیم کاربونیٹ پر ریگولیٹری ڈیوٹی 20فیصد کم کرکے 10فیصد اور فلمنٹ یارن پر 5فیصد کی شرح سے ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔

سندھ میں گنے کی امدادی قیمت کا اعلان نہ ہو سکا
DAILY PAKISTAN

سندھ میں گنے کی امدادی قیمت کا اعلان نہ ہو سکا

Nov 23, 2022 | 09:52:AM

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن ) سندھ حکومت کی جانب سے گنے کی امدادی قیمت کا اعلان تاحال نہ کیا جا سکا، کسان گزشتہ سال کی قیمت پر  ہی فصل بیچنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔  نجی ٹی وی چینل "جیو نیوز"کے مطابق سندھ میں سیلاب سے تباہ حال گنے کے آبادگار حکومت کی جانب سے امدادی قیمت کا اعلان نہ کئے جانے پر مشکلات کا شکار ہو گئے، سندھ میں رواں سال سیلاب کے سبب شعبہ زراعت کو 4 سو ارب روپے سے زائد کا ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے، ایسے میں آبادگاروں نے گنے کی فصل سے نقصانات کے کچھ ازالے کی امید باندھ لی  تاہم نقصانات کے ازالے کے برعکس گنے کے آبادگار شوگر ملوں میں کرشنگ شروع ہونے کے باوجود اپنی فصل گذشتہ سال کی قیمت 250 روپے فی من کے حساب سے فروخت کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔  آبادگاروں کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ سال کی قیمتوں پر اس لیے گنے کی فروخت پر مجبور  ہیں کیوں کہ سندھ حکومت کی جانب سے گنے کی امدادی قیمت کا اعلان نہیں کیا گیا ہے، اس صورتحال میں فصل کی کٹائی میں تاخیر سے گنا سوکھنے سے وزن کا کم ہوجائے گا اور زمین کوگندم کی بوائی کیلئے تیار کرنے میں مشکلات درپیش ہوں گی۔ سندھ آبادگار اتحاد کے صدر نواب زبیر تالپور نے کہا کہ پنجاب میں گنے کی امدادی قیمت کا اعلان ہو گیا ہے، حالانکہ وہاں فصل بھی تاخیر سے اترتی ہے اور کرشنگ کا آغاز بھی بعد میں ہوتا ہے لیکن یہاں سندھ میں آدھی شوگر ملیں چل گئی ہیں، دونوں ہاتھوں سے کسانوں کو لوٹا جا رہا ہے اور آبادگاروں کو گنے کا ریٹ 250 دیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ساڑھے 7 لاکھ ایکڑ پر کاشت کی جانے والی گنے کی فصل رواں سال ساڑھے 6 لاکھ ایکڑ پر کاشت ہوئی، ایسے میں آبادگاروں کو فصل کی مناسب قیمت نہ ملنے کی صورت میں گنے کی کاشت میں مزید کمی کا خدشہ ہے

پنجاب اور خیبر پختونخواگندم پر سیاست نہ کریں، دونوں صوبوں نے بیج   لینے سے انکار کر دیا  ، وزیر اعظم شہباز شریف
DAILY PAKISTAN

پنجاب اور خیبر پختونخواگندم پر سیاست نہ کریں، دونوں صوبوں نے بیج لینے سے انکار کر دیا ، وزیر اعظم شہباز شریف

Oct 20, 2022 | 13:20:PM

 اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن ) وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا گندم کی نئی فصل کے بیج پر سیاست نہ کریں،  فصل کی بوائی کے لیے وفاقی حکومت نے صوبوں کیساتھ مل کر منصوبہ بنایا کہ آدھے اضلاع میں وفاق اور آدھے اضلاع میں صوبے گندم کا بیج تقسیم کریں گے، مگر پنجاب اور خیبر پختونخوا نے گزارش کے باوجود بیج لینے سے   انکار کر دیا ہے ۔ نجی ٹی وی "ایکسپریس نیوز "کے مطابق شہباز شریف کی زیر صدارت نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈی نیشن سینٹر (این ایف آرسی سی) میں جائزہ اجلاس ہوا، جس میں ملک میں سیلابی صورتحال سے متعلق معاملات کا جائزہ لیا گیا، اجلاس میں شہباز شریف نے بتایا کہ70 ارب روپے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے تقسیم ہورہے ہیں، سیلاب پر کوئی سیاست نہیں،متاثرین کے لیے ہم سب کام کررہے ہیں، فورم کے ذریعے سب کچھ کیاجارہاہے۔   انہوں نے بتایا کہ گندم کی بوائی کے لیے وفاقی حکومت نے صوبوں کیساتھ مل کر منصوبہ بنایا کہ آدھے اضلاع میں صوبہ اور آدھے میں وفاق دے گا، سندھ اور بلوچستان نے بیج لینے پر رضامندی ظاہر کی، مگر پنجاب اور خیبر پختونخوا نے گزارش کے باوجود بیج لینے سے انکار کیا، آج پھر درخواست کررہا ہوں کہ بیج لیں، ہمیں اس پر سیاست سے پرہیز کرنا چاہیے۔ شہباز شریف نے کہا کہ اگر کے پی اور پنجاب بیج نہیں لینا چاہتے تو آپ کی مرضی ہے لیکن یہ مت کہیں کہ وفاق کچھ نہیں کر رہا، حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش نہ کریں، قوم کو الجھن میں ڈالیں گے تو نقصان ہوگا، یہ کہا جارہا ہے کہ وفاقی حکومت نجی شعبے کو درآمد کی اجازت نہیں دے رہی، میں کسی کو درآمد کی اجازت نہیں دوں گا کہ کوئی اپنی مرضی کی قیمت پر درآمد کرلے، زرمبادلہ کے ذخائر بہت کم ہیں، ایمرجنسی حالات میں ایک ڈالر بھی فضول خرچ کرنے کے متحمل نہیں ہیں۔

غیر تصدیق شدہ بیج اور کیڑے مار ادویات فروخت کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ سختی سے نمٹنے کا فیصلہ
DAILY PAKISTAN

غیر تصدیق شدہ بیج اور کیڑے مار ادویات فروخت کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ سختی سے نمٹنے کا فیصلہ

Sep 22, 2022 | 16:07:PM

اسلام آباد(آئی این پی ) غیر تصدیق شدہ بیج اور کیڑے مار ادویات فروخت کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کرلیا گیا،کسانوں کو تصدیق شدہ بیج اور کھادیں کم نرخوں پرفراہم کی جائیں گی،کسانوں کو ترجیحی بنیادوں پر مراعات دینے کے لیے جامع زرعی منصوبہ شروع کرنے کا پروگرام،زرعی شعبے میں جامع اصلاحات کی جائیں گی۔ویلتھ پاک کی رپورٹ کے مطابق زرعی شعبے کی پیداوار کو بڑھانے، غذائی مصنوعات کی درآمدات کو کم کرنے اور کسانوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ایک جامع اصلاحاتی منصوبے کی ضرورت ہے۔ترقی پذیر ممالک کی اکثریت میں زراعت ایک لازمی جزو اور ترقی کا ایک مضبوط انجن ہے۔ پاکستان ایک زرعی معیشت بھی ہے جو قومی آمدنی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے اس پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ آبادی کا سب سے بڑا حصہ براہ راست یا بالواسطہ طور پر زراعت کے شعبے میں سرگرم عمل ہے۔ نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر اسلام آباد کے ایک سینئر سائنسی افسرڈاکٹر نور اللہ نے ویلتھ پاک سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اس لیے اس کی معیشت اپنے زرعی شعبے کا خیال رکھے بغیر ترقی نہیں کر سکتی۔ ملک کا زرعی شعبہ نئی ٹیکنالوجیز کو اپنانے سے ترقی کر سکتا ہے جس سے کسانوں کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو سکتا ہے اور ان کی مصنوعات کو مزید مسابقتی بنایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے میں اصلاحات لانے کے لیے ضروری ہے کہ تحقیقی اداروں کو فنڈز میں اضافہ کرکے انہیں مضبوط کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے نجی کمپنیوں کو بھی شامل کرنا چاہیے۔کاشتکاری کے طریقوں کو بہتر بنانے کے لیے معیاری بیجوں، آسان قرضوں اور کیڑے مار ادویات کی دستیابی کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے جو نجی شعبے کی شمولیت سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیاکہ کسانوں کو بیج، کھاد اور کیڑے مار ادویات تک آسان رسائی ہونی چاہیے۔نوراللہ نے کہا کہ حکومت زمین اور پانی کی اصلاحات پر خصوصی توجہ دے۔ فعال کاشتکاری کے تحت زمینوں کو دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے جن میں ان کی مٹی کی زرخیزی کو بحال کرنا، نمکیات کو ختم کرنا اور پانی جمع کرناشامل ہے جس سے غیر استعمال شدہ زمینوں کو بھی کاشت میں لایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے خراب ہونے والی اشیا کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے کولڈ سٹوریج کی سہولیات کی تخلیق اور توسیع پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ چونکہ ملک کا کریڈٹ سسٹم زیادہ پیچیدہ ہے اس لیے محدود مالی وسائل کے حامل چھوٹے کسان اکثر بینک قرضوں کے لیے درخواست دینے سے گریز کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو ون ونڈو آپریشن کے ذریعے قرضوں تک آسان رسائی حاصل کرنی چاہیے۔

"روس ترقی پذیر ممالک کو مفت کھاد برآمد کرنے کے لیے تیار ہے" صدر پیوٹن کا اعلان
DAILY PAKISTAN

"روس ترقی پذیر ممالک کو مفت کھاد برآمد کرنے کے لیے تیار ہے" صدر پیوٹن کا اعلان

Sep 17, 2022 | 22:37:PM

سمر قند (ڈیلی پاکستان آن لائن) روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ ان کا ملک ترقی پذیر ممالک کو مفت کھاد برآمد کرنے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے یہ بات ازبکستان کے شہر سمرقند میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ممالک کے سربراہان کے اجلاس میں کہی۔پیوٹن نے کہا کہ  انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو  گوٹیرس کو بھی بتایا تھا کہ یورپی یونین کی بندرگاہوں میں تین لاکھ  ٹن روسی کھاد جمع ہو گئی ہے۔ ہم اسے ترقی پذیر ممالک کو مفت دینے کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ روسی فیڈریشن یورپی کمیشن کے روسی کھادوں پر سے پابندیاں ہٹانے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتی ہے، لیکن اس معاملے  میں ایجنڈا نظر آتا ہے۔پیوٹن نے کہا کہ یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ پابندیاں، اس سال 10 ستمبر کو یورپی کمیشن کی وضاحت کے مطابق، صرف یورپی یونین کے رکن ممالک کے لیے اٹھائی گئی ہیں، لہذا، صرف وہی ہماری کھاد خرید سکتے ہیں۔ لیکن ترقی پذیر اور غریب ترین ممالک کا کیا ہوگا؟ "

پنجاب میں گندم کی امدادی قیمت 3 ہزار روپے من مقرر
DAILY PAKISTAN

پنجاب میں گندم کی امدادی قیمت 3 ہزار روپے من مقرر

Sep 13, 2022 | 14:00:PM

لاہور (ویب ڈیسک) پنجاب میں گندم کی امدادی قیمت 3 ہزار روپے فی من مقرر کردی گئی۔چوہدری پرویز الہی کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے پنجاب کو نظر انداز کرکے دیگر صوبوں کو گندم کی فراہمی پروفاقی حکومت کواحتجاجی مراسلہ بھیجا جائے گا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعلی پنجاب  چوہدری پرویز الٰہی نے گندم کی امدادی قیمت 3 ہزار روپے فی من مقرر کرنے کی منظوری دے دی۔وزیراعلی پنجاب نے کہا کہ دیگر صوبوں کے مقابلے میں پنجاب میں گندم اور آٹے کے نرخ کم ہیں۔ اگلے برس گندم کے زیرکاشت رقبے میں اضافہ ہوگا۔ امدادی قیمت میں اضافے سے کاشتکاروں کو ان کی محنت کا پورا معاوضہ ملے گا۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں 10 لاکھ ٹن گندم کی قلت ہے۔ وفاقی حکومت نے پنجا ب کی درخواست کے باوجود گندم فراہم نہیں کی۔ پنجاب میں بارشوں اور سیلاب سے کئی لاکھ ٹن گندم ضائع ہوئی ہے۔ وفاقی حکومت گندم فراہم نہ کرنے کے حوالے سے پنجاب کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کر رہی ہے۔

سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کسان اپنے مویشی انتہائی کم قیمت پر بیچنے پر مجبور، بیوپاریوں نے متاثرہ علاقوں کا رخ کرلیا
DAILY PAKISTAN

سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کسان اپنے مویشی انتہائی کم قیمت پر بیچنے پر مجبور، بیوپاریوں نے متاثرہ علاقوں کا رخ کرلیا

Sep 12, 2022 | 12:59:PM

لاہور (ویب ڈیسک) جنوبی پنجاب میں سیلاب سے متاثرہ بعض علاقوں میں کسان اپنے مویشی بیچنے پر مجبور ہوگئے۔تونسہ، راجن پور،لیہ ،میانوالی اورڈی جی خان کےعلاقوں میں مویشیوں کے لئے چارے کی قلت اوروبائی امراض کے خطرے کے پیش نظر کسان اپنے مویشی انتہائی کم قیمت پر فروخت کررہے ہیں۔لاہور، ساہیوال، قصور، فیصل آباد سمیت دیگرشہروں سے بیوپاری سیلاب متاثرہ علاقوں کا رخ کررہے ہیں تاکہ وہاں سے سستے داموں جانورخریدے جاسکیں۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق جنوبی پنجاب میں سیلاب متاثرین کو جہاں ایک طرف اپنے گھروں، مویشیوں اورفصلوں سمیت دیگر سامان کے نقصان کا دکھ برداشت کرنا پڑا ہے وہیں زندہ بچ جانیوالے مویشیوں کی دیکھ بھال بھی اب ان کے لئے ایک بڑامسئلہ بنتی جارہی ہے۔ راجن پور کے علاقہ فاضل پور کے رہائشی عامرحیسن لاشاری اپنے خاندان کے ساتھ ایک خیمہ بستی میں مقیم ہیں۔ وہ اپنے علاقے کے ایک متوسط کسان ہیں ،ان کے پاس 50 سے زائد چھوٹے ،بڑے مویشی تھے جن میں سے آدھے سیلاب کےپانی میں بہہ چکے ہیں جبکہ باقی ماندہ مویشی ان کے ساتھ ہیں جن کی وہ دیکھ بھال میں لگے رہتے ہیں۔ عامرحسین لاشاری نے بتایا کہ اس وقت انہیں اپنے خاندان کے دووقت کے کھانے کی فکر ہےجو وہ بمشکل پورا کررہے ہیں ، مویشیوں کے لئے چارہ کہاں سے لائیں،انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس زیادہ ترگائیں اور بھیڑبکریاں ہیں۔ گائے کوئی خریدنے کو تیارنہیں ہورہا ہے، پہلے بیماری (لپمی سکن) کی وجہ سے ان کی قیمتیں کم تھیں اوراب سیلاب کی وجہ سے اورمسئلہ بن گیا ہے۔ اگریہ جانورزیادہ عرصہ یہاں رہے تو منہ کھرکی بیماری بھی ہوسکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لائیوسٹاک کے عملے نے ان کے جانوروں کی ویکسی نیشن کی ہے جبکہ چند این جی اوز نے مویشیوں کے لئے چارہ بھی دیا ہے۔ایک اورکسان احمد خان بلوچ کاکہنا تھا انہوں نے اپنے جانور بیوپاریوں کوبیچ دیئے ہیں۔ بہت کم قیمت پرجانوربیچناپڑے ہیں، صرف دودوھ دینے والے دوجانورپاس رکھے ہیں، باقی بیچ دیئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا گھرسیلاب کے پانی میں مکمل ڈوب چکا اوراب توسب کچھ ختم ہوچکا ہوگا، ناجانے پانی اترنے اورواپس گھروں کوجانے میں کتنے ماہ لگتے ہیں۔ مویشی فروخت کرکے جوپیسے حاصل ہوئے ہیں ان سےاب کوئی چھوٹا،موٹا کام کروں گا تاکہ اپنااوربچوں کا پیٹ پال سکیں۔ اب ساری زندگی امدادی سامان کے سہارے تونہیں گزارسکتے ہیں۔ جب واپس اپنے گھروں کو جائیں تو پھرمویشی پال لیں گے۔ لاہورسے تعلق رکھنے والے بیوپاری رانا مبشر حسن نے بتایا عام طور ان دنوں میں دودھ دینے والے جانوروں کی قیمت کم ہوجاتی تھی لیکن مویشیوں میں لمپی سکن کی وبا اور سیلاب کی وجہ سے دودھ دینے والے جانوروں کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ دودھ دینے والی بھینس کی قیمت دو،ڈھائی لاکھ روپے سے بڑھ کر ساڑھے چارلاکھ روپے تک پہنچ گئی ہے ۔ لیکن ایسے مویشی جواب دودھ نہیں دیتے خاص طور پرگائیں ان کی قیمتیں انتہائی کم ہوگئی ہیں۔ گائے کو کوئی خریدنے کو تیار نہیں ہے۔ ایک گائے کی قیمت اس وقت 50 ہزار روپے سے ایک لاکھ روپے تک ہے، مویشی منڈیوں میں بہت کم مویشی لائے جارہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جنوبی پنجاب میں جوسیلاب سے متاثرہ علاقے ہیں وہاں بعض کسان اپنے مویشی سستے داموں بیچ رہے ہیں لیکن مجموعی طور پر جنوبی پنجاب کے وہ علاقے جوسیلاب کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہے ہیں وہاں مویشیوں کی قیمتیں 30 سے 40 فیصد تک بڑھ گئی ہیں۔اس کے علاوہ جنوبی پنجاب سے مویشی لاہورلانے کے لئے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں جس کااثرمویشیوں کی قیمت پرہی پڑتا ہے۔ ڈی جی خان کی ضلع انتظامیہ کے مطابق لاہورسمیت مختلف شہروں سے بیوپاری مویشی خریدنے کے لئے یہاں کا رخ کررہے ہیں، سب سے زیادہ نقصان کوہ سلیمان میں ہوا ہے جہاں پانی کے ریلوں میں مقامی کسانوں کے ریوڑ بہہ گئے ،ان علاقوں میں لوگ زیادہ تر بھیڑ، بکریاں پالتے ہیں۔ پنجاب وائلڈلائف ترجمان ڈاکٹرآصف رفیق کے مطابق حالیہ سیلاب اوربارشوں سے پنجاب میں دولاکھ 5 ہزار106 چھوٹے ،بڑے جانورہلاک ہوئے ہیں۔ اس وقت پندرہ سو قریب جانورکیمپوں جبکہ ساڑھے 6 ہزارسے زائد جانورکھلے مقامات پرموجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مویشیوں کو وبائی امراض سے بچانے کے لئے ویکسی نیشن کا عمل بھی جاری ہے۔

بھارت کا وہ مندر جہاں بیشتر مذاہب کے ماننے والے جاتے ہیں
DAILY PAKISTAN

بھارت کا وہ مندر جہاں بیشتر مذاہب کے ماننے والے جاتے ہیں

Jul 22, 2022 | 17:37:PM

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) مندر ہندوﺅں کی مذہبی جگہیں ہیں جن پر صرف ہندو ہی جاتے ہیں اور بیشتر مندروں میں کسی دوسرے مذہب کے ماننے والے کو جانے کی اجازت بھی نہیں ہوتی تاہم بھارت میں ایک مندر ایسا ہے جہاں بیشتر مذاہب کے ماننے والے جاتے ہیں۔ انڈیا ٹائمز کے مطابق اس مندر کا نام ’شری بڑے صاحب جیوا سمادھی مندر‘ ہے جو ریاست تامل ناڈو کے قصبے کنڈامنگلام کے قریبی گاﺅں چھینہ بابو سمودرام میں واقع ہے۔یہ مندر دراصل سدھر بڑے صاحب نامی شخص کا مزار ہے جس سے تمام مذاہب کے لوگ عقیدت رکھتے ہیں۔ بڑے صاحب کی پیدائش ایک مسلمان خاندان میں ہوئی تھی تاہم ان کی پرورش ہندو دیوتا اروناچلا(شیوا) کے پیروکار کے طور پر ہوئی تھی۔مسلمان پیدا ہو کر بطور ہندو زندگی گزارنے والے بڑے صاحب کی موت کے بعد تدفین اسلامی طریقے سے ہوئی تھی اور ان کی چتا چلانے کی بجائے انہیں قبر میں دفن کیا گیا تھا اور پھر ان کی قبر پر ایک مندر بنا دیا گیا۔یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ بڑے صاحب سے دیوتا شیوا نے انسانی شکل میں آ کر ملاقات کی تھی۔ بڑے صاحب دانا حکیم تھے اور ایک درخت کے نیچے بیٹھے رہتے تھے جہاں جو مریض بھی ان کے پاس آتا وہ اسے دوا دیتے اور وہ شفایاب ہو جاتا تھا۔بڑے صاحب لگ بھگ ڈیڑھ صدی قبل دنیا سے رخصت ہو گئے تاہم لوگ آج بھی ان کے مزار(مندر)پر جاتے ہیں اور وہاں رات بھر ٹھہر کر دعائیں کرتے ہیں جس سے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے امراض ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ 

 پی ٹی آئی حکومت نےاربو ں روپے اورقیمتی وقت بھی ضائع کیا  لیکن گوادر کوریلیف دینے میں ناکام رہا :وزیراعظم شہباز شریف 
DAILY PAKISTAN

 پی ٹی آئی حکومت نےاربو ں روپے اورقیمتی وقت بھی ضائع کیا لیکن گوادر کوریلیف دینے میں ناکام رہا :وزیراعظم شہباز شریف 

Jun 04, 2022 | 12:02:PM

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم شہباز شریف نے گوادر کے دورے میں تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف نے گوادر کے لوگوں کو بری طرح ناکام کیا ،اربوں روپے لگنے کے بعد بھی پانی اور بجلی کے مسائل حل نہ کر سکا۔سماجی رابطے کی سائٹ ٹویٹر پر شہباز شریف نے لکھا کہ گوادر کے دورے کے دوران میں نے دیکھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے گوادر کے لوگوں کو کس طرح بری طرح ناکام کیا۔ اربوں روپے اور قیمتی وقت ضائع کرنے کے باوجود گوادر پورٹ کے لیے بڑی قربانیاں دینے والے مقامی لوگوں کے پانی اور بجلی کے مسائل کے حل کا کوئی منصوبہ مکمل نہیں کر سکا۔ During my visit to Gwadar, I witnessed how PTI govt miserably failed the people of Gwadar. Despite wasting billions of rupees & precious time, it could not complete any project for resolution of water & electricity issues for the locals who gave great sacrifices for Gwadar port. — Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) June 4, 2022 شہباز شریف نے مزید کہا کہ گوادر کی بندرگاہ اور گوادر ہوائی اڈے کی تعمیر کا بھی یہی حال ہے۔ بندرگاہ پر کوئی ڈریجنگ نہیں کی گئی اور اس طرح کوئی بڑا کارگو جہاز لنگر انداز نہیں ہو سکتا۔ گوادر یونیورسٹی، ایئرپورٹ اور پینے کے صاف پانی کے لیے ڈی سیلینیشن پلانٹ کی تنصیب کو جلد مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔ The same holds true for Gwadar seaport & construction of Gwadar airport. No dredging was carried out at seaport & thus no large cargo ship can be anchored. Have ordered quick completion of Gwadar University, airport & installation of desalination plant for clean drinking water. — Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) June 4, 2022

پاکستان کے جی ڈی پی میں کمی، گلوبل اکانومی انڈیکس نے تفصیلات جاری کردیں
DAILY PAKISTAN

پاکستان کے جی ڈی پی میں کمی، گلوبل اکانومی انڈیکس نے تفصیلات جاری کردیں

Jun 03, 2022 | 14:34:PM

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان  کی جی ڈی پی کا حجم 2022 میں 282 ارب ڈالر رہنے کی توقع ہے۔گلوبل اکانومی انڈکس کے مطابق اگر جی ڈی پی کا تعین ڈالر کی قیمت کی مناسبت سے کیا جائے تو گزشتہ تین سالوں میں اس میں کمی واقع ہوئی ہے۔گزشتہ چند سالوں کے دوران پاکستان کا جی ڈی پی مسلسل بڑھ رہا تھا لیکن مالی سال 20-2019 میں اس کے حجم میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔تفصیلات کے مطابق سال 16-2015 میں جی ڈی پی کا حجم 30 ہزار 508 ارب روپے تھا جو مالی سال 17-2016 میں 31914 ارب روپے ہو گیا جبکہ مالی سال 18-2017 میں جی ڈی پی کا سائز 33859 ارب 60 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔آدارہ شماریات کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 19-2018 میں جی ڈی پی کا حجم 34916 ارب روپے تک پہنچ گیا تھا جو اگلے مالی سال یعنی 20-2019 میں کم ہوکر 34588 ارب 70 کروڑ روپے رہ گیاتھا۔مالی سال 21-2020 میں جی ڈی پی کا حجم 36572 ارب 60 کروڑ تک پہنچ گیا جبکہ رواں مالی سال جی ڈی پی کا حجم 38755 ارب روپے رہنے کی توقع ہے۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق 20-2019 میں جی ڈی پی کے حجم میں کمی کی وجہ کورونا کی وبا تھی جسکی وجہ سے مسلسل اکاونومی میں کمی ہو رہی ہے۔گزشتہ برسوں میں گلوبل اکانومی کے مطابق سال 2015 میں پاکستان کی جی ڈی پی 270 ارب 60کروڑ ڈالر تھی جو 2016 میں 278 ارب 70 کروڑ ڈالر ہو گئی۔ اسی طرح 2017 میں پاکستان کی جی ڈی پی کا حجم 304 ارب ڈالر تک پہنچ گیا جبکہ 2018 میں یہ 314 ارب 60کروڑ ڈالر تک بڑھ گیا لیکن 2019 اور 2020 میں یہ کم ہونا شروع ہو گیا جس کی وجہ پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں اضافہ ہے۔2019 میں جی ڈی پی کا حجم 35 ارب 50 کروڑ ڈالر کمی سے 279 ارب 10 کروڑ ڈالر تک آ گیا اور سال 2020 میں مزید کم ہو کر 262 ارب 60 کروڑ ڈالر رہ گیا۔اسی طرح سال 2021 سے پاکستان کی جی ڈی پی میں دوبارہ اضافہ شروع ہوا اور یہ بڑھ کر276 ارب ڈالر ہو گیا، ملکی جی ڈی پی کا حجم 2022 میں 282 ارب ڈالر رہنے کی توقع ہے۔

وفاقی حکومت نے کھاد کی قیمتیں کم کر دیں
DAILY PAKISTAN

وفاقی حکومت نے کھاد کی قیمتیں کم کر دیں

May 27, 2022 | 13:16:PM

اسلام آباد (ویب ڈیسک) حکومت نے ملک بھر میں کھاد کی قیمتوں میں کمی کرتے ہوئے یوریا کھاد کی سرکاری سطح پر قیمت مقرر کردی ہے جس کا وزرات صعنت و پیدوار نے یوریا کھاد کی قیمتوں میں کمی کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق 50 کلو یوریا کھاد کی بوری کی قیمت میں389 روپے تک کمی کی گئی ہے جس کے بعد اس کی نئی ریٹیل قیمت 1768 روپے ہوگئی ہے۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ قیمت کا اطلاق فوری ہوگا، 7 جولائی 2022 تک یہ قیمت نافذ العمل رہے گی۔ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ حکومت فرٹیلائزر سیکٹر کو گیس پر سبسڈی فراہم کر رہی ہے،  سبسڈی والی گیس پر کھاد کی قیمت میں اضافہ بلاجواز ہے۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ سبسڈی کا ریلیف کسانوں کو منتقل ہونا چاہیے، منافع خوری روکنے کے لیے قیمت مقرر کرنا ضروری ہوگیا تھا۔ وزرات صعنت و پیدوار کے نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ فیصلے پر عملدر آمد نہ ہونے پر کارروائی کی جائے گی، فیصلے کے تحت یوریا کی مناسب قیمت پر دستیابی کو یقینی بنایا جائے گا، کھاد کی قیمتوں میں اضافے سے نیشنل ایمرجنسی کی صورتحال نے جنم لیا۔صوبائی حکومتوں اور اسلام آباد انتظامیہ کو عملدرآمد کے لیے نوٹیفکیشن بھجوا دیا گیا ہے۔

حکومت کا کسان کو براہ راست کھاد پر سبسڈی دینے کیلئے ڈیلرز کو رجسٹر کرنے کا فیصلہ
DAILY PAKISTAN

حکومت کا کسان کو براہ راست کھاد پر سبسڈی دینے کیلئے ڈیلرز کو رجسٹر کرنے کا فیصلہ

May 12, 2022 | 15:29:PM

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )حکومت نے منسٹری آف نیشنل فوڈ سیکیورٹی اور صوبائی حکومتوں کے ذریعے کسانوں کو کھاد پر براہ راست سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہےجس کیلئے ملک بھر سے کھاد ڈیلرز کو رجسٹر کیا جائے گا ۔انگلش جریدے ایکسپریس ٹربیون کے مطابق گزشتہ روز وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار مخدوم سید مرتضی محمود کی زیر صدارت کھاد کی جائزہ کمیٹی کا اجلاس ہوا، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کھاد کے ڈیلروں کی طرف سے مارکیٹ میں ہیرا پھیری کو ختم کرنے کے لیے انہیں رجسٹر کیا جائے ، واضح رہے کہ سابق حکومت نے بھی فرٹیلائزرز پر زوردیا تھا کہ وہ کھاد کو بلیک کرنے والے ڈیلرز کو بلیک لسٹ کریں۔ حکومت نے کھاد کی ذخیرہ اندوزی اورسمگلنگ روکنے کیلئے وزارت داخلہ کے تحت ایک ٹاسک فورس قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں، فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور صوبائی محکموں پر مشتمل ہے تاکہ یوریا کی سرحد پار غیر قانونی نقل و حرکت کو روکا جا سکے، جبکہ فرٹیلائزرزنے حکومت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ کھاد ڈیلرز کو متعلقہ صوبائی محکموں میں رجسٹر کیا جائے گا۔وفاقی وزیر سید مرتضی محمود کی زیر صدارت اجلاس میں زرعی محکموں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ بوائی کے سیزن میں ڈی اے پی کھاد کی پیداوار میں 14 فیصد کمی واقع ہوئی تھی جس سے کھاد کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور کھاد کی مطلوبہ مقدار نہ ملنے کی وجہ سے فصلوں کی پیداورا میں بھی کمی سامنے آئی ہے۔وفاقی وزیر نے کسانوں کی جانب سے یوریا کھاد کیساتھ ڈی اے پی کھاد کی زبردستی خریداری کی شکایت پر حکومتی اداروں کو کسانوں کی شکایت دور کرنے کا حکم دیا ،واضح رہے کہ اس وقت ڈی اے پی کھادکی فی بوری کی قیمت اس وقت 10ہزار روپے سے بھی بڑ ھ گئی ہے ۔

یو اے ای کے تعاون سے پنجگور میں کھجور پروسیسنگ فیکٹری نے پیداوار شروع کردی
DAILY PAKISTAN

یو اے ای کے تعاون سے پنجگور میں کھجور پروسیسنگ فیکٹری نے پیداوار شروع کردی

Apr 25, 2022 | 13:09:PM

ابو ظبی(ویب ڈیسک) متحدہ عرب امارات پاکستان ازسٹنس پروگرام (یو اے ای- پی اے پی) کے تحت بلوچستان کے علاقے پنجگور میں کھجوروں کی پروسیسنگ فیکٹری نے تجارتی پیمانے پرپیداوار شروع کردی ہے ،یہ فیکٹری ابوظہبی فنڈ برائے ترقی (اے ڈی ایف ڈی) کی جانب سے فراہم کردہ 63 لاکھ 60ہزار امریکی ڈالر کی لاگت سے یو اے ای- پی اے پی کی جانب سے بلوچستان کے ضلع پنجگور میں قائم کی گئی ہے۔ روزنامہ جنگ کے مطابق  پاکستان دنیا میں کھجوروں کی پیداوار کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے ۔ یہ منصوبہ 5ہزار 710 مربع میٹر کے رقبے پر تعمیر کیا گیا ہے، جس میں بین الاقوامی معیارات کے مطابق کھجوروں کی پروسیسنگ، پیکجنگ اور ذخیرہ کرنے کی سہولت میسر ہے۔ اس کی 15پروڈکشن لائنوں کی پیداواری صلاحیت 4ٹن فی گھنٹہ، یا 32ہزارٹن یومیہ سے زیادہ ہے، اس کا ریفریجریشن نظام 1ہزار 500ٹن تک تیار شدہ کھجوریں ذخیرہ کر سکتا ہے۔ اس منصوبے سے مستفید ہونے والے علاقوں کے متعدد کسانوں نے پنجگور میں کھجور کی پروسیسنگ فیکٹری کے افتتاح پر خوشی کا اظہار کیا جس سے انہیں اپنی کھجور کی مصنوعات کی مارکیٹنگ میں مدد ملے گی۔ اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے یو اے ای- پی اے پی کے ڈائریکٹر عبداللہ خلیفہ الغفلی نے کہا کہ رمضان کے مقدس مہینے کے آغاز سے پنجگور میں کھجوروں کی پروسیسنگ فیکٹری میں پیداوار شروع ہورہی ہے جس سے پاکستانی خاندانوں کو ان کے افطار کی اہم خوراک فراہم ہوگی۔ انسانی ہمدردی کے شعبے میں متحدہ عرب امارات کی اہم حکمت عملی کو اجاگر کرتے ہوئے الغفلی نے ان کی تنظیم کی جانب سے پاکستان میں انسانی ہمدردی کے پروگراموں اور ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے متحدہ عرب امارات کی قیادت کی حمایت کو سراہا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ پاکستان میں کھجور کی پیداوار کے ایک نئے مرحلے کے آغاز کی نمائندگی کرتا ہے، جس سے اس کی زرعی وسائل میں دلچسپی بڑھے گی اور غذائی تحفظ کی پالیسی کو سپورٹ کیا جائے گا۔

  پنجاب میں گندم کی پیداوار کم ہونے کا خدشہ
DAILY PAKISTAN

پنجاب میں گندم کی پیداوار کم ہونے کا خدشہ

Apr 22, 2022 | 15:58:PM

لاہور (ویب ڈیسک) ربیع سیزن کے دوران معمول سے کم بارشوں اور درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کی وجہ سے اس سال پنجاب میں گندم کا پیداواری ہدف متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پروگریسو فارمر اور ایگری ری پبلک کے سربراہ عامرح یات بھنڈارا کہتے ہیں گندم کی مجموعی پیداوار میں 6 سے 9 فیصد تک کمی آئی ہے، جن علاقوں میں گنم کی اوسط پیداوار 40 سے 50 من فی ایکڑ تھی وہ کم ہو کر 32 سے 40 من تک آگئی ہے۔ ماہرین کے مطابق قبل از وقت گرمی کی لہر نے کئی اضلا ع میں گندم کی فصل کو متاثر کیا ہے تاہم محکمہ زراعت کے حکام کا کہنا ہے جو فصل بروقت کاشت کی گئی تھی اس کی پیداوار میں بہتری آئی ہے، دوسری طرف لاہور میں پروگریسو فارمر نے غیر روایتی طریقے سے کاشت کی گئی گندم سے معمول سے 10 سے 15 من فی ایکڑ زیادہ پیداوار حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پنجاب کراپ رپورٹنگ سروس کے مطابق اپریل کے وسط تک پنجاب میں مجموعی طور پر 75 فیصد گندم کی فصل کی کٹائی کی جاچکی ہے۔ سروے کے مطابق بارانی علاقوں میں 32.32 من فی ایکڑ پیداوار آئی ہے جو کہ گزشتہ برس 33 اعشاریہ 21 فیصد تھی۔ مجموعی طور پر بارانی اور آب پاشی علاقوں میں گندم کی پیداوارمیں گزشتہ سال کی نسبت اعشاریہ ایک فیصد کمی ریکارڈکی گئی ہے تاہم دوسری طرف کاشت کار اس سروے کو حقائق پر مبنی تصور نہیں کرتے۔پروگریسو فارمر اور ایگری ری پبلک کے سربراہ عامرحیات بھنڈارا نے کہا کہ گندم سمیت دیگر فصلوں کی پیداوارمیں کمی کی کئی وجوہات ہیں جن میں موسمیاتی تبدیلی، زرعی پانی کی کمی ، کھاد اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ روس اور یوکرائن جنگ کی وجہ سے بھی ہمیں گندم کی قلت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ زراعت پنجاب نے اس سال گندم کا پیداواری ہدف 20 اعشاریہ پانچ ملین ٹن رکھا ہے، جنوبی پنجاب میں مارچ کے آخر اور اپریل کے شروع میں درجہ حرات بڑھنے سے گندم کی فصل جلد تیارہوگئی جبکہ دانے بھی نہیں سکڑے تاہم سینٹرل پنجاب میں فصل کی تیاری اور اس کی کٹائی دیر سے ہوتی ہے اور اس وقت درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب پہنچ جاتا ہے، اس وجہ سے گندم کادانہ سکڑ گیا ہے اس سے اوسط پیداوار میں کمی آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب اپریل کے وسط تک گندم کی مجموعی پیداوار 20.36 ملین ٹن کی توقع تھی لیکن یہ توقع سے کم رہی ہے۔ محکمہ زراعت پنجاب کے حکام پرامید ہیں کہ ابھی چونکہ لاہور، فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں گندم کی کٹائی کاعمل جاری ہے جو مئی کے وسط تک مکمل ہوگا تو قوی امکان ہے کہ ہم اپنے پیداواری ہدف کے قریب پہنچ جائیں گے تاہم ماہرین کوخدشہ ہے کہ اس سال پنجاب میں گندم کی پیداوارمیں ایک سے دو لاکھ ٹن کمی آسکتی ہے۔ ڈائریکٹرجنرل محکمہ زراعت (توسیعی) پنجاب ڈاکٹر انجم علی نے  کہا کہ ہم پرامید ہیں کہ گندم کا پیداواری ہدف پورا ہوگا، جن علاقوں میں گندم کی فصل تاخیر سے کاشت کی گئی اور قبل از وقت شروع ہونے والی گرمی کے لہرکے دوران کسانوں نے فصلوں کو پانی نہیں دیا ان علاقوں میں گندم کی پیداوار متاثر ہوسکتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس سال چونکہ بارشیں معمول سے کم ہوئی ہیں جبکہ پہاڑوں پر برف پگھلنے کا عمل بھی متاثر ہوا تو اس وجہ سے محکمہ انہار نے مارچ میں نہری پانی میں 47 فیصد کمی کردی تھی اسی طرح کئی علاقوں میں زیر زمین پانی کھارا ہے جو فصلوں کو نہیں لگایا جاسکتا تھا اس وجہ سے گندم کا دانہ متاثر ہوا ہے۔ دوسری طرف لاہور سے تعلق رکھنے والے ترقی پسند کاشت کار اور زرعی ماہر سید بابرعلی بخاری نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے موجودہ نامساعد حالات کے باوجود گندم کی فی ایکڑ پیداوار 50 من فی ایکڑ حاصل کی ہے جو اس علاقے میں معمول کی پیداوار سے 10 سے 15 من فی ایکڑ زیادہ ہے۔بابرعلی نے بتایا کہ انہوں نے گندم کی بہتر پیداوار کے لیے آرگائنک فارمولا استعمال کیا ہے جس سے نہ صرف فی ایکڑ پیداوار زیادہ آئی ہے بلکہ گندم کے سٹے کا سائز اور دانوں کی تعداد بھی عام گندم کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

حکومت نے یوریاایکسپورٹرز اور مینوفیکچررز کیلئے 96ارب روپے کی سبسڈی کی منظوری دے دی 
DAILY PAKISTAN

حکومت نے یوریاایکسپورٹرز اور مینوفیکچررز کیلئے 96ارب روپے کی سبسڈی کی منظوری دے دی 

Mar 31, 2022 | 11:38:AM

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اقتصادی رابطہ کمیٹی نے  یوریا ایکسپورٹرزاور یوریا مینو فیکچرز کو سبسڈی دینے کیلئے 96ارب روپے  کی سبسڈی کی منظوری دے دی۔گزشتہ روز وزیر خزانہ شوکت ترین کی زیر قیادت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس  دوران ہدایت کی  گئی کہ ایک ماہ کے اندر 2یوریا پلانٹس کو سسٹم گیس پر منتقل کرنے کے عمل کو تیز کیا جائے ۔ انگریزی جریدے ایکسپریس ٹربیون کے مطابق وزارت خزانہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر خزانہ شوکت ترین نے بدھ کو ای سی سی کے اجلاس کی صدارت کی اور 2021سے 2026تک کی مدت کے لیے ڈرا بیک آف لوکل ٹیکسز (ڈی ایل ٹی) سکیم کی سمری کی منظوری دی۔ای سی سی نے 1 جولائی 2021 سے 30 جون 2026 تک کی مدت کے لیے ڈی ایل ٹی سکیم کے لیے نظرثانی شدہ شرحوں کی منظوری دی۔ یہ سکیم شعبوں کے ساتھ ساتھ برآمد کرنے والی فرموں کی برآمدی کارکردگی پر اس کے اثرات کا اندازہ لگانے کے لیے سہ ماہی جائزوں سے مشروط ہو گی۔انگلش جریدے نے  نیشنل فرٹیلائزر ڈیویلپمنٹ سنٹر (این ایف ڈی سی)کے حوالے سے بتایا کہ اگر دونوں پلانٹ فاطمہ فرٹیلائزراور ایگریچ فرٹیلائزر اگر 31مارچ کے بعد نہیں چلتے تو 2لاکھ ٹن یوریا کا حدف حاصل نہیں کر سکیں گے اور اگست کے بعد سے کمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ای سی سی نے پٹرولیم ڈویژن کو مراسلہ جاری کیا ہے کہ 31مارچ کے بعد سے دونوں فرٹیلائزر پلانٹس کو گیس کی فراہمی یقینی بنائی جائے ۔

گندم کی فی من قیمت میں 400  روپے اضافے کی سفارش، وفاقی اور صوبائی وزراء میں اختلافات سامنے آگئے
DAILY PAKISTAN

گندم کی فی من قیمت میں 400 روپے اضافے کی سفارش، وفاقی اور صوبائی وزراء میں اختلافات سامنے آگئے

Feb 26, 2022 | 14:03:PM

اسلام آباد (ویب ڈیسک) گندم کی فی من قیمت میں 400 روپے کے اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے تاہم  قیمت میں تازہ اضافے کی سفارش پر وفاق اور پنجاب کے وزراء میں اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔  تفصیلات کے مطابق  پنجاب کابینہ کی جانب سے گندم کی فی من قیمت 2200 روپے مقرر کرنے کی سفارش وفاق کو ارسال کی گئی ہے، جس پر اہم ترین وفاقی وزراء کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔وفاقی وزرا کا مؤقف ہے کہ گندم کی امدادی قیمت خرید گزشتہ سال 1800 روپے فی من مقرر کی گئی تھی، اور اب یکمشت 400 روپے فی من اضافہ کرنے سے آٹا کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ ہوگا۔دوسری جانب پنجاب کابینہ کی جانب سے ارسال کی گئی گندم سپورٹ پرائس کی سمری اقتصادی رابطہ کمیٹی میں پیش کی جائے گی،  وزیراعظم عمران خان اقتصادی رابطہ کمیٹی کی سفارشات پر وفاقی کابینہ میں غور کریں گے، اور وزیراعظم مشاورت کے بعد آئندہ چند روز میں حتمی فیصلہ کریں گے۔

ملک میں کھاد بحران ،  پیپلز پارٹی نے تحقیقات کا مطالبہ کردیا 
DAILY PAKISTAN

ملک میں کھاد بحران ،  پیپلز پارٹی نے تحقیقات کا مطالبہ کردیا 

Jan 17, 2022 | 00:35:AM

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) پیپلزپارٹی کی مرکزی رہنما ا ور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے ملک میں جاری کھاد بحران کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نااہل وفاقی حکومت کھاد بحران کے حل کی بجائے سیاست اور الزام تراشی میں مصروف ہے۔ ڈاکٹر نفیسہ شاہ نےکہا کہ آٹا,چینی،گندم بحران کے بعداس وقت ملک کو کھاد کےبحران کاسامناہے،ملک میں کھادکابڑھتابحران باعث تشویش اور کئی سوالات کو جنم دیتا ہے ،نا اہل وفاقی حکومت بحران کے حل کی بجائے سیاست اور الزام تراشی میں مصروف ہے، وفاقی وزرا دوسروں پر الزام لگانے کی بجائے اپنے گریبان میں جھانکیں۔ڈاکٹر نفیسہ شاہ نےکہا کہ علی زیدی گھوٹکی سےآپ کےوزیر کھاد چرا کر لے گئے ہیں، گھوٹکی والے پہلے سے ہی غصے سے بھرے بیٹھے ہیں،کھاد کا بحران اسی طرح جاری رہا تو گندم کے فصل کو شدید نقصان ہو سکتا ہے، کھاد کے پیدا ہونیوالے بحران کے باعث ملک میں غذائی قلت کا بھی شدید خدشہ ہے،وفاقی حکومت بحران کو تسلیم کرنے اور حل نکالنے کی بجائے عوام کے جائز خدشات اور تشویش کو جھوٹ قرار دیکر غلط بیانی سے کام لے رہی ہے۔ڈاکٹر نفیسہ شاہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس وقت کسان اور عوام شدید پریشانی میں مبتلا ہیں، کھاد کے حصول کے لئے کھاد لے جانی والی گاڑیوں پر حملے ہو رہے ہیں، کھاد بحران کے حل کے لئے بروقت اقدامات کیوں نہیں اٹھائے گئے،پیپلزپارٹی آٹا، چینی اور گندم بحران کی طرح کھاد بحران کے معاملے کو دبنے نہیں دے گی۔ حکومت تحقیقات کرے کہ کھاد بحران کے اصل ذمہ داران کون ہیں؟ اورعوام کو بتایا جائے کہ ملک میں کھاد بحران کی وجوہات کیا ہیں؟۔

نیشنل ہائی وے پر دھرنا، کینو کے 250 کنٹینرز پھنس گئے
DAILY PAKISTAN

نیشنل ہائی وے پر دھرنا، کینو کے 250 کنٹینرز پھنس گئے

Dec 22, 2021 | 11:33:AM

کراچی (ویب ڈیسک) نیشنل ہائی وے پر دھرنے کے نتیجے میں پنجاب سے کراچی بندرگاہ آنے والے کینوکے 250 کنٹینرز دھرنے کی وجہ سے پھنس گئے۔ قاضی احمد میں نیشنل ہائی وے پر دھرنے کے نتیجے میں پنجاب سے زرعی مصنوعات کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ پید اہوگیا ہے،  پنجاب سے کراچی بندرگاہ آنے والے کینوکے 250 کنٹینرز دھرنے کی وجہ سے پھنس گئے۔پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز، امپورٹرز و مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی ایف وی اے) کے سرپرست اعلیٰ وحید احمد کے مطابق اس صورتحال سے کینو کے بر آمدکنندگان کو شدید مشکلات کا سامنا ہے،کینو کے مزید کنٹینرز بھی پنجاب سے روانہ ہورہے ہیں اوربرآمدی کنٹینرز لے کر جانے والا جہاز کل روانہ ہو گا، اگر کینو بروقت بندرگاہ نہ پہنچے تو 4 ملین ڈالر کا نقصان ہوگا۔وحید احمد کا کہنا تھا کہ کینو کی ایکسپورٹ پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے، زائد سمندری کرایوں اور کنٹینرز کی قلت کی وجہ سے رواں سیزن کینو کی ایکسپورٹ 3 لاکھ ٹن تک محدود رہنے کا امکان ہے جبکہ احتجاج اور دھرنے کی وجہ سے کینو کا بر آمدی ہدف مشکل میں پڑگیا ہے۔انھوں نے حکومت سندھ سے اپیل کی کہ مظاہرین سے مذاکرات کرکے جلد از جلد نیشنل ہائی وے پر ٹریفک کی روانی بحال کرائی جائے۔

کسانوں کا قومی دن ، ملکی ترقی میں کسانوں کی اہمیت کا علمدار
DAILY PAKISTAN

کسانوں کا قومی دن ، ملکی ترقی میں کسانوں کی اہمیت کا علمدار

Dec 18, 2021 | 12:24:PM

تحریر: غلام نبی انسان کی غذائی ضروریات زیادہ ترکھیتوں اور باغوں سے پوری ہوتی ہیں۔اور کسان ہی وہ محسن ہیں جو ہمارے لئے خوراک کی فراہمی کو یقینی بناتے ہیں۔ جون جولائی کی جھلسا دینے والی گرمی ہو یا دسمبر جنوری کی جما دینے والی ٹھنڈک، یہ ہر موسم کی شدت کو برداشت کرتے ہوئے ہمارے لئے ضروریات مہیا کرتے ہیں۔ان کی محنت سے فائدہ اٹھانے والے لوگ تومعاشی ترقی کے بام عروج پر پہنچ جاتے ہیں، لیکن یہ بے چارے کسان اکثر وبیشتر معاشی ترقی کے سفر میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔فاطمہ فرٹیلائزر کسانوں کی بہتری کے لئے ہمیشہ بہت آواز اٹھاتی رہی ہے۔کیونکہ کسانوں کی ترقی سے ہی ملک کی ترقی ہے۔ ان کسانوں کی محنت کو سلام پیش کرنے کے لئے فاطمہ گروپ نے 2019میں 18 دسمبر کو کسانوں کے نام سے منسوب کردیا کیونکہ بلاشبہ یہی لوگ قوم کے لیے غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے ذمہ دار ہیں ۔ کسان ڈے کو اس لئے بھی متعارف کرایا تاکہ اس دن اسٹیک ہولڈرز اور پالیسی سازوں کو مکالمے میں شامل کر کے کسانوں کی اہمیت اور معاشرے میں ان کے کردارکو بلند کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم میسر آسکے۔اس طرح نہ صرف کسانوں کے مسائل سنے جاسکیں گے بلکہ ان کاحل بھی نکالا جائے گا۔بھوک اور غذائیت کی کمی سے نمٹنے کے لیے ملک میں خود کفیل زرعی شعبے کی تشکیل کے لیے کوششیں کرناضروری ہیں۔ کسانوں کے مسائل کے لیے جدید تقاضوں کے مطابق حل لانا اور منافع بخش کاشتکاری کے حصول میں ان کی مدد کرنا پاکستان کے غذائی تحفظ کے چیلنجوں سے نمٹنے کا واحد آپشن ہے۔ اس کے لیے زرعی شعبے کو جدید بنانا اور اسے پاکستان کی اقتصادی ترقی کامحور بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔مختلف عوامل بشمول موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات جن کے نتیجے میں درجہ حرارت میں اضافہ، بے ترتیب بارشوں سمیت بہت سے مسائل نے صورت حال کو مزید خراب کر دیا ہے جس سے نہ صرف قومی غذائی ضروریات کو پورا کرنے میں مشکلات درپیش ہیں بلکہ معیشت بھی متاثر ہو رہی ہے۔اگر ہمارے زرعی شعبے کو جدید بنایا جائے اور زرعی شعبے کی اکثریت پر مشتمل چھوٹے کسانوں کو بااختیار بنایا جائے تو ان تمام چیلنجز سے موثر اندازسے نمٹا جاسکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں فوڈ سکیورٹی بڑھے گی اور بھوک کا خاتمہ ہوگا۔فاطمہ فرٹیلائزکی جانب سے کسان ڈے منانے کے فیصلے کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ فصلوں کی زیادہ پیداوارکے لئے لائحہ عمل وضح کیا جائے اورکاشتکاروں کو بہتر طرز زندگی فراہم کرنے میں مدد کی جائے۔ یہ دن کسانوں کے لئے بہت سودمند ثابت ہوگا۔ ملک کے اس اہم طبقے کے بارے میں ضروری معلومات سے لوگ لاعلم رہتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو چوبیس گھنٹے کام کرتے ہیں اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ملک میں سب کی غذائی ضرورت پوری ہو مگروہ خود اکثر بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہوتے ہیں۔کسان ہم سب کی زندگی سے جڑے ہیں مگر اس کے باوجود، بہت سے لو گ ان کو درپیش مسائل سے واقف نہیں ہیں۔معاشرے میں کسانوں کی مدر کے حوالے سے آگہی پیدا کرنے اور ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں عزت سے نوازنا کسان ڈے کا مقصد ہے۔ کسانوں کے دن کے حوالے سے نہ صرف مہم چلائی جاتی ہے بلکہ اس دن فاطمہ فرٹیلائزر کی نگرانی میں متعدد تقریبات کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے جس میں حکومتی معززین، سفارت کار، زراعت کے ماہرین اور کسان برادری کے اراکین شرکت کرتے ہیں۔اس موقع پر ہونے والی گفتگو سے کسانوں کو درپیش مشکلات ملکی سطح پر رکھنے کا موقع ملتا ہے۔ دیہی برادری کی فلاح و بہبود کے لئے اس دن کو منانا بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ملکی سطح پر تقریبات کا انعقاد کسانوں کے لئے مفید ثابت ہونے کے ساتھ ساتھ انہیں خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے میںمدددے گا۔ تقریبات میں ان کو خراج تحسین پیش کرنے سے ان کا حوصلہ بھی بڑھے گا اور ان میں کا م کرنے کے جذبے میں اضافہ ہوگا۔ اس طرح کی تقریبات ان مسائل کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کرنے کا کام کرتی ہیں اور زرعی شعبے کی تازہ ترین معلومات سے خود کسانوںکو بااختیار بنانے پر بھی توجہ مرکوز کرتی ہیں۔کسانوں کا دن منانا اس لیے بھی ضروری ہے کہ مباحثے کے سیشنز کے ذریعے کسانوں اور کاشت سے متعلق مختلف مسائل کو اجاگر کیا جا سکتا ہے اور حکومت اور نجی شعبے ان کے حل کے لیے کوششیں کر سکتے ہیں۔ کسانوں کا دن منانے سے جی ڈی پی میں زراعت کی شراکت کو بڑھانے، بڑی فصلوں کی پیداوار میں اضافہ، کھاد، جدید ٹیکنالوجی، بیج وغیرہ کے استعمال میں اضافہ کرنے کے اقدامات کو اجاگر کیا جاسکتا ہے جس سے لاگت کو کم کر کے کسانوں کو راحت حاصل ہوگی اور مجموعی طور پر ریاست کو بہتر بنایا جا سکے۔ اس سال تیسرا کسان ڈے منایا جارہاہے ۔ اس موقع پر چھوٹے کسانوں کو ان کی فصلوں کی پیداوار بڑھانے، ان کی مناسب قیمت حاصل کرنے اور مارکیٹ تک رسائی کو بہتر بنانے میں سہولت فراہم کرنے کے اپنے عزم کو دہرانے کی ضرورت ہے۔

تحریک انصاف کی  حکومت میں زراعت کےشعبہ میں ملک نےکتنی ترقی کی ؟وفاقی  وزیرفخرامام کا اعداد و شمار کےساتھ حیران کن دعوی
DAILY PAKISTAN

تحریک انصاف کی  حکومت میں زراعت کےشعبہ میں ملک نےکتنی ترقی کی ؟وفاقی  وزیرفخرامام کا اعداد و شمار کےساتھ حیران کن دعوی

Dec 09, 2021 | 22:46:PM

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ سید فخرامام نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے زراعت کے شعبے پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں، گزشتہ دوسالوں کے مقابلے میں پچھلے سال پانچ فصلوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا، کاشتکاروں کی آمدنی میں اضافہ دیکھا گیا۔ وزیراطلاعات و نشریات چوہدر ی فواد حسین کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےسید فخر امام نے کہا کہ پاکستان میں زراعت کی تاریخ 1960ء سے 2000ء تک دیکھی جائے تو اس میں چار فیصد زرعی پیداوار کی گروتھ تھی جبکہ 2000ء سے اب تک تین فیصد گروتھ ہوئی ہے،وزیراعظم عمران خان نے زراعت کے شعبہ کو خصوصی طور پر فوکس کیااور کافی حد تک کامیابی حاصل کی گئی ہے، اس ضمن میں دو سالوں میں خصوصاً پچھلے سال گندم کی فصل جو 37 فیصد رقبہ پر کاشت کی گئی تھی اس میں  دو اعشاریہ دو  ملین ٹن ایک سال قبل سے زیادہ پیداوار حاصل ہوئی تھی جس کو اگر آج کی قیمتوں کے مطابق درآمد کرتے تو نقصان ہوتا، اسی طرح سے کپاس کی اس سال نو ملین گانٹھیں ہوئیں جو کہ پچھلے سال سات ملین تھیں،اس سے 750 ملین ڈالر کافائدہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھان کی فصل کی ریکارڈ کاشت کی وجہ سےدو  اعشاریہ  62 بلین ڈالر ایکسٹرا ایکسپورٹ سے حاصل ہوسکتے ہیں ، اسی طرح مکئی کی فصل پچھلے سال آٹھ اعشاریہ  نو   ملین ٹن تھی جو اس سال نو ملین ٹن تک پہنچی ہے، گنے کی پیداوار 81 ملین ٹن تھی جو کہ اس سال89 ملین ٹن ہوئی جس کی ایکسٹرا چینی اگر برآمد کی جاتی تو اس کی مالیت800 ملین ڈالر بنتی ہے، حکومت نے زراعت کے شعبے کی بہتری کے لئے جو فریم ورک دیا ہے اس میں تمام شعبوں خصوصاً پنجاب نے اپنا حصہ ڈالا اور کاشتکاروں کی آمدن میں 399 ارب روپے تک اضافہ ہوا،مستقبل میں جنرل تعلیم کے علاوہ زرعی تعلیم میں جدت لائی جائے گی، ہماری وزارت میں میکنائزیشن کے ذریعے زرعی پیداوار میں اضافہ کیا جائے گا، ہمیں دودھ کی پیداوار اور دودھ سے بنی ہوئی چیزوں کے پلانٹس لگانے پر توجہ دینی ہو گی اور جانوروں کو دی جانے والی خوراک کی کوالٹی کو بھی بہتر کرنا ہو گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہماری لائیو سٹاک کے شعبے کی 60اعشاریہ  سات جی ڈی پی ہے اور 63 ملین ٹن دودھ کی پیداوار ہے جس میں صرف 60 فیصد پراسس ہوتی ہے، دودھ کی پیداوار کے پراسیس کو بڑھانے کی ضرورت ہے جس سے بہت بہتری آئے گی، وزیراعظم عمران خان مویشیوں کی افزائش نسل کو بڑھانے کے لئے بہت توجہ دے رہے ہیں اور اس میں بہتری سے مویشی پال بھائیوں کامعیار زندگی بلندہو گا،ہم ان تمام شعبوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے جا رہے ہیں۔ سید فخر امام نے کہا کہ دنیا کی صف اول کی 10 صنعتیں ہائی ٹیکنالوجی پر منتقل ہوئی ہیں، ہمیں اس طرف جانا ہے، زراعت اور صنعت کے شعبے وزیراعظم کی خصوصی توجہ کامرکز ہیں، ہمیں اپنے بچوں اور نوجوانوں کو ٹیکنیکل ایجوکیشن کی طرف لے کر جانا ہے تاکہ سٹارٹ اپس کو بڑھایا جاسکے،ہم تحقیق کے شعبوں پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں تاکہ جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے علم و تحقیق کے میدان میں نوجوانوں کی رہنمائی کریں، ہمیں چائنہ کی طرز پر اپنی افرادی قوت ہنر مندبنانا اور فصلوں کی برداشت کے حوالے سے ہمیں جدیدمشینری بنانی ہو گی،چائنہ کے ساتھ مل کر زراعت کے شعبے میں جد ت لارہے ہیں،چینی سائنسدانوں نے ہمیں یقین دہانی کرائی ہے کہ زراعت کے شعبے میں ہر قسم کا تعاون کرنے کوتیار ہیں۔

کھاد کی بوری کی قیمت میں 400 روپے کمی
DAILY PAKISTAN

کھاد کی بوری کی قیمت میں 400 روپے کمی

Nov 30, 2021 | 12:08:PM

اسلام آباد (ویب ڈیسک) کھاد کی ذخیرہ اندوزی روکنے کے وزیراعظم عمران خان کے احکامات کے بعد کھاد کی ایک بوری کی قیمت میں 400 روپے کی کمی آگئی۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کھاد کے موجودہ ذخائر اور قیمتوں سے متعلق اجلاس ہوا۔وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ وزیراعظم کے پچھلے ہفتے ذخیرہ اندوزی کے خلاف اقدامات کی ہدایت کے بعد کھاد کی فی بوری قیمت فروخت میں اوسطاً 400 روپے کی کمی آئی ہے۔ وزیر اعظم کو آگاہ کیا گیا کہ کھاد کی سپلائی کو مانیٹر کرنے کیلئے آن لائن پورٹل بنا لیا گیا ہے جس سے صوبے اور تمام ضلعی انتظامیہ کھاد کی نقل و حرکت اور سٹاک کو مانیٹر کر سکتے ہیں۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ ہر ضلع میں کنٹرول روم بنائے گئے ہیں جہاں کھاد کی کمی، ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری سے متعلق شکایات درج کروائی جا سکتی ہیں، صوبوں کے مابین سرحدوں پر سمگلنگ روکنے کیلئے چیک پوسٹیں قائم کر دی گئی ہیں۔

زراعت کی بہتری کے لئے حکومت کیا کرنے جا رہی ہے ؟ وزیر مملکت فرخ حبیب نے کسانوں کو خوشخبری سنا دی
DAILY PAKISTAN

زراعت کی بہتری کے لئے حکومت کیا کرنے جا رہی ہے ؟ وزیر مملکت فرخ حبیب نے کسانوں کو خوشخبری سنا دی

Jun 25, 2021 | 23:23:PM

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب کی زیر صدارت زراعت کے شعبے میں بہتری کیلئے کمیونیکیشن پالیسی کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا،جس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے تحفظ خوراک جمشید اقبال چیمہ، سیکرٹری اطلاعات و نشریات شاہیرا شاہد، پرنسپل انفارمیشن افسر سہیل علی خان، ایم ڈی پی ٹی وی عامر منظور، ڈائریکٹر نیوز اینڈ کرنٹ افئیرز پی ٹی وی مرزا راشد بیگ، ایم ڈی اے پی پی مبشر حسن اور دیگر اعلی حکام نے اجلاس میں شرکت کی، اجلاس میں زراعت کے شعبے میں بہتری کیلئے کمیونیکیشن پالیسی کے حوالے سے غور کیا گیا۔ وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زراعت ایک اہم شعبہ ہے، آبادی کا بہت بڑا حصہ اس شعبے سے منسلک ہے، وزیر اعظم عمران خان کا ویژن ہے کہ تعمیراتی شعبے کی طرح زراعت صنعت کو بھی اٹھانا ہے،وزارت اطلاعات اور ذیلی ادارے زرعی ترقی کو بہتر انداز میں اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ معاون خصوصی جمشید اقبال چیمہ نے بتایا کہ زراعت کیلئے آئندہ مالی سال میں رواں مالی سال سے سات گنا زیادہ بجٹ رکھا گیا ہے،شوگر، ٹیکسٹائل، پیسٹی سائیڈ، فلور ملز، رائس ملز انڈسٹری کی حوصلہ افزائی کریں گے،سابقہ دور میں کسانوں کا بری طرح استحصال کیا گیاجس سے زراعت کا نقصان ہو ا،موجودہ  حکومت نے سبسڈی کے لئے 680 ارب روپے کے خطیر فنڈز مختص کئے۔ جمشید اقبال چیمہ نےکہا کہ گندم ،گنے کی امدادی قیمت مقرر کی جاتی ہے ،باقی ساری فصلیں اوپن ہیں،سابقہ دور میں گنے کی کم قیمت دے کر کسان کی جیب پر90 ارب کا ڈاکہ ڈالا گیا، پہلی ترجیح کسان ، دوسرا ماحولیاتی آلودگی سے پاک صنعتکاری کا فروغ ہے، حکومت نے اس مقصد کے لئے آئندہ مالی سال میں 10ارب روپے مختص کئےہیں،کم درجہ حرارت والےعلاقوں میں کسانوں کو60 ٹن سویابین کابیج دیاہے،ڈیرہ اسماعیل خان کو دالوں کی مارکیٹ بنا رہے ہیں،فاٹا میں ریسرچ سنٹرز بنا رہے ہیں۔

MOST READ

کسانوں کے دیرینہ مسائل اور کسان ڈے میں چھپا اِن کا حل DAILY PAKISTAN

لاہور(سرفراز علی)   پاکستان میں حالیہ سیلاب نے زراعت کے شعبے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔پاکستان کا زرعی شعبہ ملک کی معاشی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہے اورجی ڈی پی میں اضافہ کے لحاظ سے یہ ہماری معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی مانا جاتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں نے اس شعبے پر بہت منفی اثرات ڈالے ہیں۔سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے باعث ملک کو فوڈ سیکیورٹی کا خدشہ لاحق ہے۔ مشکل کی اس گھڑی میں فاطمہ فرٹیلائیزر مسائل میں گھِرے کسانوں کی معاونت کے لئے پیش پیش ہے۔فاطمہ فرٹیلائیزر موسمیاتی تبدیلی اور زراعت پر اس کے منفی اثرات سے نمٹنے کے لئے بھی بھرپور انداز میں کوشاں ہے اور ملک کے زرعی نظام میں بڑی تبدیلی لانے کے لئے پرعزم ہے۔  اس اہم شعبے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر کسان اتحاد، خالد کھوکھر  نے کہا کہ بلاشبہ کسان ہی قوم کے لیے غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے ذمہ دار ہیں ۔ ان کسانوں کی محنت کو سلام پیش کرنے کے لئے فاطمہ گروپ نے 2019میں 18 دسمبر کو کسانوں کے نام سے منسوب کیا ۔ کسان ڈے کو اس لئے بھی متعارف کرایا گیاکہ اس دن اسٹیک ہولڈرز اور پالیسی سازوں کو مکالمے میں شامل کر کے کسانوں کی اہمیت اور معاشرے میں ان کے کردارکو بلند کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم میسر آسکے۔اس طرح نہ صرف کسانوں کے مسائل سنے جاسکیں گے بلکہ ان کاحل بھی نکالا جائے گا۔ اس سال چوتھا کسان ڈے منایا جارہاہے ۔ اس موقع پر چھوٹے کسانوں کو ان کی فصلوں کی پیداوار بڑھانے، ان کی مناسب قیمت حاصل کرنے اور مارکیٹ تک رسائی کو بہتر بنانے میں سہولت فراہم کرنے کے اپنے عزم کو دہرانے کی ضرورت ہے۔   زرعی شعبے کی بحالی اور معیشت اور فوڈ سیکیورٹی میں اس کے تعاون کو بڑھانے کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے خالد کھوکھر نے بیان کیا کہ حکومت کو مختلف آبپاشی اصلاحات جیسے ڈیموں اور آبی ذخائر کی تعمیر، واٹر ریگولیٹری اتھارٹیز کا قیام اور پانی کی تقسیم کے نیٹ ورک کو بہتر بنانا چاہیے۔ ان اقدامات سے زراعت کے لیے پانی کی دستیابی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو کسانوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے اورکارپوریٹ کمپنیوں کو اس بات پر آمادہ کرنا چاہئے کہ وہ زرعی شعبے کی مجموعی پیداوار کو زیادہ سے زیادہ کرنے کے لیے اس کے ساتھ تعاون کریں۔ اس تعاون سے پاکستان کے زرعی شعبے کو جدید بنانے میں بھی مدد ملے گی اور کسانوں کو ان کے سالانہ منافع کے تحفظ میں بھی مدد ملے گی ۔ کارپوریٹ فارمنگ پاکستان کی موجودہ زراعت کے مسائل سے موثر طریقے سے نمٹنے کے لیے سب کے لیے فائدہ مند ماڈل ثابت ہو سکتی ہے۔  انہوں نے کہا کہ ”ہمیں ایک سسٹم کے تحت کام کرنے کی ضرورت ہے جہاں حکومت اور پرائیویٹ سیکٹر کے اشتراک سے کام ہو۔“   خالد کھوکھر  نے مزید کہا کہ کسانوں کے مسائل کے لیے جدید تقاضوں کے مطابق حل لانا اور منافع بخش کاشتکاری کے حصول میں ان کی مدد کرنا پاکستان کے غذائی تحفظ کے چیلنجوں سے نمٹنے کا واحد آپشن ہے۔ اس کے لیے زرعی شعبے کو جدید بنانا اور اسے پاکستان کی اقتصادی ترقی کامحور بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ فاطمہ فرٹیلائزر زراعت کے شعبے میں جدت لانے کے لئے بھرپور طریقے سے سرگرم ہے۔ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود پاکستان میں کسانوں کی حمایت اور حوصلہ افزائی سے متعلق حالات سازگار نہیں رہے تھے۔ فاطمہ فرٹیلائزرنے کسانوں کی اہمیت کے پیشِ نظران کو سہولیات فراہم کرنے کا بیڑا اٹھایا۔اس اقدام کا مقصد کسانوں کے معاشی حالات میں بہتری لانے کے لئے اہم مسائل اجاگر کرنا اور ان کے حل کے ذریعے ان کی فلاح وبہبود کو فروغ دینا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ” ہمارے ملک میں مشینری بھی پرانی ہے اور طریقے بھی۔جدید مشینری نہ ہونے کے برابر ہے اورحکومت کی جانب سے اس پر کبھی توجہ بھی نہیں دی گئی۔“  کسانوں کے ملکی معیشت اور فوڈ سیکیورٹی میں کردار اور اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسان پاکستان کی معیشت میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں اور حکومت کسانوں کو سہولیات اور مراعات دے کر مزید بہتر نتائج حاصل کرسکتی ہے۔کاشتکاروں کو مزید بااعتماد بنانے اور کام کے لئے اُن کی لگن کوبڑھانے سے زراعت کا شعبہ تیزی سے ترقی کی منزلیں طے کرسکتا ہے۔ کسان ڈے منانے کا فیصلہ بھی کاشتکار طبقہ کی محنت اور قومی ترقی میں ان کے کردار کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اُن کی حوصلہ افزائی کی بھی وجہ بنے گا جس سے کاشتکاروں میں کام کے جذبے کو تقویت ملے گی۔

Dec 16, 2022 | 20:05:PM
وزیراعظم کی معاون خصوصی نے کسانوں  کو قرض حاصل کرنے کا آسان طریقہ بتا دیا DAILY PAKISTAN

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف کی معاون خصوصی شزا فاطمہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم یوتھ لون  سکیم کے تحت پہلی مرتبہ کسانوں کو زرعی پیداوار بڑھانے کیلئے قرض دیا جائے گا۔شزا فاطمہ نے کہا کہ قرض کیلئے قومی شناختی کارڈ اور اپنا موبائل فون نمبر ہونا ضروری ہے، وزیراعظم یوتھ پروگرام کی ویب سائٹ پر اپلائی کیا جا سکتا ہے، نوجوان PMYP کے نام سے موبائل ایپ پر بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔ سماء نیوز کے مطابق وزیراعظم کی معاون خصوصی شزا فاطمہ خواجہ کا کہنا تھا کہ زراعت کے شعبے سے وابستہ نوجوان حکومت سے قرض حاصل کرسکتے ہیں، وزیراعظم یوتھ لون اسکیم کے تحت پہلی مرتبہ کسانوں کو زرعی پیداوار بڑھانے کیلئے قرض دیا جائے گا، اور پہلے سال کسانوں کو قرض کی واپسی کی ضرورت نہیں ہوگی۔ معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ حکومت ملک بھر میں 50 ارب روپے کے قرض دے گی، جس سے نوجوان بیچ اور کھاد خرید سکیں گے، نوجوان ٹریکٹرز، کھادوں اور بیج کی خریداری کے ساتھ ڈیری فارمنگ کیلئے بھی رقوم حاصل کر سکیں گے، قرض کی رقم سے3 گاؤں مل کر ایک جدید ڈیری پلانٹ لگا سکتے ہیں۔ سیلاب میں جن کے مویشی بہہ گئے وہ بھی قرض لے سکتے ہیں، دور دراز علاقوں کی نوجوان نسل کو زرعی کاروبار کی طرف لانا ہے، نوجوان قرض کی رقم سے ڈیری فارم بنا کر مویشی پال سکتے ہیں، قرض سے نوجوان ٹریکٹرز یا دیگر زرعی سامان خرید سکتے ہیں۔

Dec 16, 2022 | 12:09:PM
اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان نے پہلی بار قتل کے مجرم کو سرعام سزائے موت دیدی DAILY PAKISTAN

کابل(مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان میں طالبان حکومت نے اپنے قیام کے بعد پہلے شخص کو کھلے عام سزائے موت دے دی۔ انڈیا ٹوڈے کے مطابق مجرم نے ایک آدمی کو قتل کیا تھا، جس کی پاداش میں عدالت کی طرف سے اسے سزائے موت سنائی گئی تھی۔ مجرم کا تعلق صوبہ فراہ کے دارالحکومت فراہ سے تھا اور اسے شہر کے ایک چوراہے پر درجنوں لوگوں کی موجودگی میں موت کے گھاٹ اتارا گیا۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ طالبان سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کی طرف سے ملک کے ججز کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ اسلامی شرعی قوانین کو ان کی روح کے مطابق نافذ کریں۔ اس کے بعد سے مختلف جرائم کے مرتکب لوگوں کو سرعام کوڑے مارے جا چکے ہیں تاہم سزائے موت پہلی بار کسی شخص کو دی گئی ہے۔اس مجرم کی سزائے موت پر عملدرآمد کے حوالے سے طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ سزا پر عملدرآمد مقتول کے باپ سے کروایا گیا، جس نے اپنے ہاتھوں سے قاتل کو کلاشنکوف سے 3گولیاں مار کر قتل کیا۔ ترجمان کی طرف سے سزائے موت پانے والے مجرم کی شناخت تاج میر ولد غلام سرور بتائی گئی ہے، جو صوبہ ہرات کے ضلع انجیل کا رہائشی تھا۔ اس نے ڈکیتی کے دوران نوجوان کو قتل کیا تھا اوراس کی موٹرسائیکل اور موبائل فون چھین کر فرار ہو گیا تھا۔ 

Dec 08, 2022 | 17:11:PM
 راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی نےگندم کی کھڑی فصل پر ہل چلوا دیے DAILY PAKISTAN

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے کسانوں کی گندم کی کھڑی فصل پر ہل چلوا دیے اور ساتھ ہی احتجاج کرنے والےکسانوں اور زمین مالکان کو گرفتار بھی کرلیا گیا۔ جیو نیوز کے مطابق کسانوں اور زمین مالکان کی گرفتاری کے بعد متاثرین کے بچے اور خواتین بھی احتجاج میں شامل ہوگئے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ نے راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو صرف اس زمین پر کام کی اجازت دی تھی جہاں زمین کا ریٹ ایوارڈ ہو چکا تھا۔  راوی اربن سٹی کی تعمیر پر لاہور ہائی کورٹ نے اسٹے دے رکھا ہے، راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی عمران خان کے دورِ حکومت میں قائم کی گئی تھی ، انہوں نے نہ صرف اس کا افتتاح کیا بلکہ اس کی پروموشن بھی کی تھی لیکن حکومت جانے کے بعد اب عمران خان نے ریئل اسٹیٹ کو سب سے بڑا مافیا قرار دیتے ہوئےکہا کہ اس کی وجہ سے فوڈ سکیورٹی کے خدشات لاحق ہوگئے ہیں۔ دوسری جانب ترجمان راوی اربن ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہےکہ منصوبے کے لیے کسانوں کو اراضی کی قیمت ادا کی جاچکی ہے، ریونیو بورڈ آف پنجاب نے اراضی کی قیمت کی ادائیگی کے بعد روڈا کےنام پر اسٹیٹ لینڈ لی، گیم چینجر منصوبےکی اسٹیٹ لینڈ مافیا کے ذریعے ہتھیانے کا منصوبہ ناکام ہوگا۔

Dec 07, 2022 | 11:55:AM
زرعی ٹیوب ویلوں کے لیے بجلی سستی، زمینداروں کے لیے خوشخبری آگئی DAILY PAKISTAN

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی حکومت نے زرعی ٹیوب ویلوں کے لیے بجلی 3روپے 40پیسے فی کلو واٹ آور سستی کر دی۔ نیوز ویب سائٹ’پرو پاکستانی‘ کے مطابق وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کی طرف سے وزیراعظم میاں شہباز شریف کے کسان پیکیج کے تحت زرعی ٹیوب ویلوں کے لیے بجلی کے نرخ16روپے 60پیسے فی کلوواٹ آور سے کم کرکے 13روپے فی کلوواٹ آور کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ ٹیوب ویلوں کے لیے بجلی کی اس نئی قیمت کا اطلاق یکم نومبر 2022ءسے ہو گا۔رپورٹ کے مطابق اقتصادی رابطہ کمیٹی کی طرف سے اجلاس میں الیکشن کمیشن کو بھی 15ارب روپے جاری کرنے کی منظوری دی گئی، جس میں سے 5ارب روپے فوری طور پر جاری کیے جائیں گے، جن کے خرچ ہونے کے بعد باقی 10ارب روپے بھی جاری کر دیئے جائیں گے۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے 7ارب 41کروڑ روپے مانگے گئے تھے۔وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں ای سی سی نے تین حکومتی بجلی گھروں کو 93ارب روپے کی ادائیگیوں کی منظوری بھی دی۔ ان بجلی گھروں کو ادائیگی نجی بجلی گھروں کے برابر ٹیرف پر کی جائے گی۔ اجلاس میں ہاﺅسنگ وورکس منسٹری کو مجموعی طور پر 55کروڑ 60لاکھ روپے کی تکنیکی گرانٹ جاری کی کی منظوری بھی دی گئی۔ اس گرانٹ سے گوجرہ اور ڈی آئی خان میں ترقیاتی سکیمیں مکمل کی جائیں گی۔اس کے علاوہ سیلاب بارے آگہی مہم چلانے کے لیے 2ارب روپے منظور کیے گئے۔ تمباکو کی مختلف اقسام کی کم از کم قیمت مقرر کرنے کی بھی منظور دی گئی۔سوڈیم کاربونیٹ پر ریگولیٹری ڈیوٹی 20فیصد کم کرکے 10فیصد اور فلمنٹ یارن پر 5فیصد کی شرح سے ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔

Nov 30, 2022 | 17:39:PM
سندھ میں گنے کی امدادی قیمت کا اعلان نہ ہو سکا DAILY PAKISTAN

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن ) سندھ حکومت کی جانب سے گنے کی امدادی قیمت کا اعلان تاحال نہ کیا جا سکا، کسان گزشتہ سال کی قیمت پر  ہی فصل بیچنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔  نجی ٹی وی چینل "جیو نیوز"کے مطابق سندھ میں سیلاب سے تباہ حال گنے کے آبادگار حکومت کی جانب سے امدادی قیمت کا اعلان نہ کئے جانے پر مشکلات کا شکار ہو گئے، سندھ میں رواں سال سیلاب کے سبب شعبہ زراعت کو 4 سو ارب روپے سے زائد کا ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے، ایسے میں آبادگاروں نے گنے کی فصل سے نقصانات کے کچھ ازالے کی امید باندھ لی  تاہم نقصانات کے ازالے کے برعکس گنے کے آبادگار شوگر ملوں میں کرشنگ شروع ہونے کے باوجود اپنی فصل گذشتہ سال کی قیمت 250 روپے فی من کے حساب سے فروخت کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔  آبادگاروں کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ سال کی قیمتوں پر اس لیے گنے کی فروخت پر مجبور  ہیں کیوں کہ سندھ حکومت کی جانب سے گنے کی امدادی قیمت کا اعلان نہیں کیا گیا ہے، اس صورتحال میں فصل کی کٹائی میں تاخیر سے گنا سوکھنے سے وزن کا کم ہوجائے گا اور زمین کوگندم کی بوائی کیلئے تیار کرنے میں مشکلات درپیش ہوں گی۔ سندھ آبادگار اتحاد کے صدر نواب زبیر تالپور نے کہا کہ پنجاب میں گنے کی امدادی قیمت کا اعلان ہو گیا ہے، حالانکہ وہاں فصل بھی تاخیر سے اترتی ہے اور کرشنگ کا آغاز بھی بعد میں ہوتا ہے لیکن یہاں سندھ میں آدھی شوگر ملیں چل گئی ہیں، دونوں ہاتھوں سے کسانوں کو لوٹا جا رہا ہے اور آبادگاروں کو گنے کا ریٹ 250 دیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ساڑھے 7 لاکھ ایکڑ پر کاشت کی جانے والی گنے کی فصل رواں سال ساڑھے 6 لاکھ ایکڑ پر کاشت ہوئی، ایسے میں آبادگاروں کو فصل کی مناسب قیمت نہ ملنے کی صورت میں گنے کی کاشت میں مزید کمی کا خدشہ ہے

Nov 23, 2022 | 09:52:AM
پنجاب اور خیبر پختونخواگندم پر سیاست نہ کریں، دونوں صوبوں نے بیج   لینے سے انکار کر دیا  ، وزیر اعظم شہباز شریف DAILY PAKISTAN

 اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن ) وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا گندم کی نئی فصل کے بیج پر سیاست نہ کریں،  فصل کی بوائی کے لیے وفاقی حکومت نے صوبوں کیساتھ مل کر منصوبہ بنایا کہ آدھے اضلاع میں وفاق اور آدھے اضلاع میں صوبے گندم کا بیج تقسیم کریں گے، مگر پنجاب اور خیبر پختونخوا نے گزارش کے باوجود بیج لینے سے   انکار کر دیا ہے ۔ نجی ٹی وی "ایکسپریس نیوز "کے مطابق شہباز شریف کی زیر صدارت نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈی نیشن سینٹر (این ایف آرسی سی) میں جائزہ اجلاس ہوا، جس میں ملک میں سیلابی صورتحال سے متعلق معاملات کا جائزہ لیا گیا، اجلاس میں شہباز شریف نے بتایا کہ70 ارب روپے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے تقسیم ہورہے ہیں، سیلاب پر کوئی سیاست نہیں،متاثرین کے لیے ہم سب کام کررہے ہیں، فورم کے ذریعے سب کچھ کیاجارہاہے۔   انہوں نے بتایا کہ گندم کی بوائی کے لیے وفاقی حکومت نے صوبوں کیساتھ مل کر منصوبہ بنایا کہ آدھے اضلاع میں صوبہ اور آدھے میں وفاق دے گا، سندھ اور بلوچستان نے بیج لینے پر رضامندی ظاہر کی، مگر پنجاب اور خیبر پختونخوا نے گزارش کے باوجود بیج لینے سے انکار کیا، آج پھر درخواست کررہا ہوں کہ بیج لیں، ہمیں اس پر سیاست سے پرہیز کرنا چاہیے۔ شہباز شریف نے کہا کہ اگر کے پی اور پنجاب بیج نہیں لینا چاہتے تو آپ کی مرضی ہے لیکن یہ مت کہیں کہ وفاق کچھ نہیں کر رہا، حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش نہ کریں، قوم کو الجھن میں ڈالیں گے تو نقصان ہوگا، یہ کہا جارہا ہے کہ وفاقی حکومت نجی شعبے کو درآمد کی اجازت نہیں دے رہی، میں کسی کو درآمد کی اجازت نہیں دوں گا کہ کوئی اپنی مرضی کی قیمت پر درآمد کرلے، زرمبادلہ کے ذخائر بہت کم ہیں، ایمرجنسی حالات میں ایک ڈالر بھی فضول خرچ کرنے کے متحمل نہیں ہیں۔

Oct 20, 2022 | 13:20:PM
غیر تصدیق شدہ بیج اور کیڑے مار ادویات فروخت کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ سختی سے نمٹنے کا فیصلہ DAILY PAKISTAN

اسلام آباد(آئی این پی ) غیر تصدیق شدہ بیج اور کیڑے مار ادویات فروخت کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کرلیا گیا،کسانوں کو تصدیق شدہ بیج اور کھادیں کم نرخوں پرفراہم کی جائیں گی،کسانوں کو ترجیحی بنیادوں پر مراعات دینے کے لیے جامع زرعی منصوبہ شروع کرنے کا پروگرام،زرعی شعبے میں جامع اصلاحات کی جائیں گی۔ویلتھ پاک کی رپورٹ کے مطابق زرعی شعبے کی پیداوار کو بڑھانے، غذائی مصنوعات کی درآمدات کو کم کرنے اور کسانوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ایک جامع اصلاحاتی منصوبے کی ضرورت ہے۔ترقی پذیر ممالک کی اکثریت میں زراعت ایک لازمی جزو اور ترقی کا ایک مضبوط انجن ہے۔ پاکستان ایک زرعی معیشت بھی ہے جو قومی آمدنی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے اس پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ آبادی کا سب سے بڑا حصہ براہ راست یا بالواسطہ طور پر زراعت کے شعبے میں سرگرم عمل ہے۔ نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر اسلام آباد کے ایک سینئر سائنسی افسرڈاکٹر نور اللہ نے ویلتھ پاک سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اس لیے اس کی معیشت اپنے زرعی شعبے کا خیال رکھے بغیر ترقی نہیں کر سکتی۔ ملک کا زرعی شعبہ نئی ٹیکنالوجیز کو اپنانے سے ترقی کر سکتا ہے جس سے کسانوں کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو سکتا ہے اور ان کی مصنوعات کو مزید مسابقتی بنایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے میں اصلاحات لانے کے لیے ضروری ہے کہ تحقیقی اداروں کو فنڈز میں اضافہ کرکے انہیں مضبوط کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے نجی کمپنیوں کو بھی شامل کرنا چاہیے۔کاشتکاری کے طریقوں کو بہتر بنانے کے لیے معیاری بیجوں، آسان قرضوں اور کیڑے مار ادویات کی دستیابی کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے جو نجی شعبے کی شمولیت سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیاکہ کسانوں کو بیج، کھاد اور کیڑے مار ادویات تک آسان رسائی ہونی چاہیے۔نوراللہ نے کہا کہ حکومت زمین اور پانی کی اصلاحات پر خصوصی توجہ دے۔ فعال کاشتکاری کے تحت زمینوں کو دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے جن میں ان کی مٹی کی زرخیزی کو بحال کرنا، نمکیات کو ختم کرنا اور پانی جمع کرناشامل ہے جس سے غیر استعمال شدہ زمینوں کو بھی کاشت میں لایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے خراب ہونے والی اشیا کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے کولڈ سٹوریج کی سہولیات کی تخلیق اور توسیع پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ چونکہ ملک کا کریڈٹ سسٹم زیادہ پیچیدہ ہے اس لیے محدود مالی وسائل کے حامل چھوٹے کسان اکثر بینک قرضوں کے لیے درخواست دینے سے گریز کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو ون ونڈو آپریشن کے ذریعے قرضوں تک آسان رسائی حاصل کرنی چاہیے۔

Sep 22, 2022 | 16:07:PM
"روس ترقی پذیر ممالک کو مفت کھاد برآمد کرنے کے لیے تیار ہے" صدر پیوٹن کا اعلان DAILY PAKISTAN

سمر قند (ڈیلی پاکستان آن لائن) روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ ان کا ملک ترقی پذیر ممالک کو مفت کھاد برآمد کرنے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے یہ بات ازبکستان کے شہر سمرقند میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ممالک کے سربراہان کے اجلاس میں کہی۔پیوٹن نے کہا کہ  انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو  گوٹیرس کو بھی بتایا تھا کہ یورپی یونین کی بندرگاہوں میں تین لاکھ  ٹن روسی کھاد جمع ہو گئی ہے۔ ہم اسے ترقی پذیر ممالک کو مفت دینے کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ روسی فیڈریشن یورپی کمیشن کے روسی کھادوں پر سے پابندیاں ہٹانے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتی ہے، لیکن اس معاملے  میں ایجنڈا نظر آتا ہے۔پیوٹن نے کہا کہ یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ پابندیاں، اس سال 10 ستمبر کو یورپی کمیشن کی وضاحت کے مطابق، صرف یورپی یونین کے رکن ممالک کے لیے اٹھائی گئی ہیں، لہذا، صرف وہی ہماری کھاد خرید سکتے ہیں۔ لیکن ترقی پذیر اور غریب ترین ممالک کا کیا ہوگا؟ "

Sep 17, 2022 | 22:37:PM
پنجاب میں گندم کی امدادی قیمت 3 ہزار روپے من مقرر DAILY PAKISTAN

لاہور (ویب ڈیسک) پنجاب میں گندم کی امدادی قیمت 3 ہزار روپے فی من مقرر کردی گئی۔چوہدری پرویز الہی کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے پنجاب کو نظر انداز کرکے دیگر صوبوں کو گندم کی فراہمی پروفاقی حکومت کواحتجاجی مراسلہ بھیجا جائے گا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعلی پنجاب  چوہدری پرویز الٰہی نے گندم کی امدادی قیمت 3 ہزار روپے فی من مقرر کرنے کی منظوری دے دی۔وزیراعلی پنجاب نے کہا کہ دیگر صوبوں کے مقابلے میں پنجاب میں گندم اور آٹے کے نرخ کم ہیں۔ اگلے برس گندم کے زیرکاشت رقبے میں اضافہ ہوگا۔ امدادی قیمت میں اضافے سے کاشتکاروں کو ان کی محنت کا پورا معاوضہ ملے گا۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں 10 لاکھ ٹن گندم کی قلت ہے۔ وفاقی حکومت نے پنجا ب کی درخواست کے باوجود گندم فراہم نہیں کی۔ پنجاب میں بارشوں اور سیلاب سے کئی لاکھ ٹن گندم ضائع ہوئی ہے۔ وفاقی حکومت گندم فراہم نہ کرنے کے حوالے سے پنجاب کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کر رہی ہے۔

Sep 13, 2022 | 14:00:PM
سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کسان اپنے مویشی انتہائی کم قیمت پر بیچنے پر مجبور، بیوپاریوں نے متاثرہ علاقوں کا رخ کرلیا DAILY PAKISTAN

لاہور (ویب ڈیسک) جنوبی پنجاب میں سیلاب سے متاثرہ بعض علاقوں میں کسان اپنے مویشی بیچنے پر مجبور ہوگئے۔تونسہ، راجن پور،لیہ ،میانوالی اورڈی جی خان کےعلاقوں میں مویشیوں کے لئے چارے کی قلت اوروبائی امراض کے خطرے کے پیش نظر کسان اپنے مویشی انتہائی کم قیمت پر فروخت کررہے ہیں۔لاہور، ساہیوال، قصور، فیصل آباد سمیت دیگرشہروں سے بیوپاری سیلاب متاثرہ علاقوں کا رخ کررہے ہیں تاکہ وہاں سے سستے داموں جانورخریدے جاسکیں۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق جنوبی پنجاب میں سیلاب متاثرین کو جہاں ایک طرف اپنے گھروں، مویشیوں اورفصلوں سمیت دیگر سامان کے نقصان کا دکھ برداشت کرنا پڑا ہے وہیں زندہ بچ جانیوالے مویشیوں کی دیکھ بھال بھی اب ان کے لئے ایک بڑامسئلہ بنتی جارہی ہے۔ راجن پور کے علاقہ فاضل پور کے رہائشی عامرحیسن لاشاری اپنے خاندان کے ساتھ ایک خیمہ بستی میں مقیم ہیں۔ وہ اپنے علاقے کے ایک متوسط کسان ہیں ،ان کے پاس 50 سے زائد چھوٹے ،بڑے مویشی تھے جن میں سے آدھے سیلاب کےپانی میں بہہ چکے ہیں جبکہ باقی ماندہ مویشی ان کے ساتھ ہیں جن کی وہ دیکھ بھال میں لگے رہتے ہیں۔ عامرحسین لاشاری نے بتایا کہ اس وقت انہیں اپنے خاندان کے دووقت کے کھانے کی فکر ہےجو وہ بمشکل پورا کررہے ہیں ، مویشیوں کے لئے چارہ کہاں سے لائیں،انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس زیادہ ترگائیں اور بھیڑبکریاں ہیں۔ گائے کوئی خریدنے کو تیارنہیں ہورہا ہے، پہلے بیماری (لپمی سکن) کی وجہ سے ان کی قیمتیں کم تھیں اوراب سیلاب کی وجہ سے اورمسئلہ بن گیا ہے۔ اگریہ جانورزیادہ عرصہ یہاں رہے تو منہ کھرکی بیماری بھی ہوسکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لائیوسٹاک کے عملے نے ان کے جانوروں کی ویکسی نیشن کی ہے جبکہ چند این جی اوز نے مویشیوں کے لئے چارہ بھی دیا ہے۔ایک اورکسان احمد خان بلوچ کاکہنا تھا انہوں نے اپنے جانور بیوپاریوں کوبیچ دیئے ہیں۔ بہت کم قیمت پرجانوربیچناپڑے ہیں، صرف دودوھ دینے والے دوجانورپاس رکھے ہیں، باقی بیچ دیئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا گھرسیلاب کے پانی میں مکمل ڈوب چکا اوراب توسب کچھ ختم ہوچکا ہوگا، ناجانے پانی اترنے اورواپس گھروں کوجانے میں کتنے ماہ لگتے ہیں۔ مویشی فروخت کرکے جوپیسے حاصل ہوئے ہیں ان سےاب کوئی چھوٹا،موٹا کام کروں گا تاکہ اپنااوربچوں کا پیٹ پال سکیں۔ اب ساری زندگی امدادی سامان کے سہارے تونہیں گزارسکتے ہیں۔ جب واپس اپنے گھروں کو جائیں تو پھرمویشی پال لیں گے۔ لاہورسے تعلق رکھنے والے بیوپاری رانا مبشر حسن نے بتایا عام طور ان دنوں میں دودھ دینے والے جانوروں کی قیمت کم ہوجاتی تھی لیکن مویشیوں میں لمپی سکن کی وبا اور سیلاب کی وجہ سے دودھ دینے والے جانوروں کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ دودھ دینے والی بھینس کی قیمت دو،ڈھائی لاکھ روپے سے بڑھ کر ساڑھے چارلاکھ روپے تک پہنچ گئی ہے ۔ لیکن ایسے مویشی جواب دودھ نہیں دیتے خاص طور پرگائیں ان کی قیمتیں انتہائی کم ہوگئی ہیں۔ گائے کو کوئی خریدنے کو تیار نہیں ہے۔ ایک گائے کی قیمت اس وقت 50 ہزار روپے سے ایک لاکھ روپے تک ہے، مویشی منڈیوں میں بہت کم مویشی لائے جارہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جنوبی پنجاب میں جوسیلاب سے متاثرہ علاقے ہیں وہاں بعض کسان اپنے مویشی سستے داموں بیچ رہے ہیں لیکن مجموعی طور پر جنوبی پنجاب کے وہ علاقے جوسیلاب کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہے ہیں وہاں مویشیوں کی قیمتیں 30 سے 40 فیصد تک بڑھ گئی ہیں۔اس کے علاوہ جنوبی پنجاب سے مویشی لاہورلانے کے لئے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں جس کااثرمویشیوں کی قیمت پرہی پڑتا ہے۔ ڈی جی خان کی ضلع انتظامیہ کے مطابق لاہورسمیت مختلف شہروں سے بیوپاری مویشی خریدنے کے لئے یہاں کا رخ کررہے ہیں، سب سے زیادہ نقصان کوہ سلیمان میں ہوا ہے جہاں پانی کے ریلوں میں مقامی کسانوں کے ریوڑ بہہ گئے ،ان علاقوں میں لوگ زیادہ تر بھیڑ، بکریاں پالتے ہیں۔ پنجاب وائلڈلائف ترجمان ڈاکٹرآصف رفیق کے مطابق حالیہ سیلاب اوربارشوں سے پنجاب میں دولاکھ 5 ہزار106 چھوٹے ،بڑے جانورہلاک ہوئے ہیں۔ اس وقت پندرہ سو قریب جانورکیمپوں جبکہ ساڑھے 6 ہزارسے زائد جانورکھلے مقامات پرموجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مویشیوں کو وبائی امراض سے بچانے کے لئے ویکسی نیشن کا عمل بھی جاری ہے۔

Sep 12, 2022 | 12:59:PM
بھارت کا وہ مندر جہاں بیشتر مذاہب کے ماننے والے جاتے ہیں DAILY PAKISTAN

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) مندر ہندوﺅں کی مذہبی جگہیں ہیں جن پر صرف ہندو ہی جاتے ہیں اور بیشتر مندروں میں کسی دوسرے مذہب کے ماننے والے کو جانے کی اجازت بھی نہیں ہوتی تاہم بھارت میں ایک مندر ایسا ہے جہاں بیشتر مذاہب کے ماننے والے جاتے ہیں۔ انڈیا ٹائمز کے مطابق اس مندر کا نام ’شری بڑے صاحب جیوا سمادھی مندر‘ ہے جو ریاست تامل ناڈو کے قصبے کنڈامنگلام کے قریبی گاﺅں چھینہ بابو سمودرام میں واقع ہے۔یہ مندر دراصل سدھر بڑے صاحب نامی شخص کا مزار ہے جس سے تمام مذاہب کے لوگ عقیدت رکھتے ہیں۔ بڑے صاحب کی پیدائش ایک مسلمان خاندان میں ہوئی تھی تاہم ان کی پرورش ہندو دیوتا اروناچلا(شیوا) کے پیروکار کے طور پر ہوئی تھی۔مسلمان پیدا ہو کر بطور ہندو زندگی گزارنے والے بڑے صاحب کی موت کے بعد تدفین اسلامی طریقے سے ہوئی تھی اور ان کی چتا چلانے کی بجائے انہیں قبر میں دفن کیا گیا تھا اور پھر ان کی قبر پر ایک مندر بنا دیا گیا۔یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ بڑے صاحب سے دیوتا شیوا نے انسانی شکل میں آ کر ملاقات کی تھی۔ بڑے صاحب دانا حکیم تھے اور ایک درخت کے نیچے بیٹھے رہتے تھے جہاں جو مریض بھی ان کے پاس آتا وہ اسے دوا دیتے اور وہ شفایاب ہو جاتا تھا۔بڑے صاحب لگ بھگ ڈیڑھ صدی قبل دنیا سے رخصت ہو گئے تاہم لوگ آج بھی ان کے مزار(مندر)پر جاتے ہیں اور وہاں رات بھر ٹھہر کر دعائیں کرتے ہیں جس سے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے امراض ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ 

Jul 22, 2022 | 17:37:PM
 پی ٹی آئی حکومت نےاربو ں روپے اورقیمتی وقت بھی ضائع کیا  لیکن گوادر کوریلیف دینے میں ناکام رہا :وزیراعظم شہباز شریف  DAILY PAKISTAN

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم شہباز شریف نے گوادر کے دورے میں تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف نے گوادر کے لوگوں کو بری طرح ناکام کیا ،اربوں روپے لگنے کے بعد بھی پانی اور بجلی کے مسائل حل نہ کر سکا۔سماجی رابطے کی سائٹ ٹویٹر پر شہباز شریف نے لکھا کہ گوادر کے دورے کے دوران میں نے دیکھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے گوادر کے لوگوں کو کس طرح بری طرح ناکام کیا۔ اربوں روپے اور قیمتی وقت ضائع کرنے کے باوجود گوادر پورٹ کے لیے بڑی قربانیاں دینے والے مقامی لوگوں کے پانی اور بجلی کے مسائل کے حل کا کوئی منصوبہ مکمل نہیں کر سکا۔ During my visit to Gwadar, I witnessed how PTI govt miserably failed the people of Gwadar. Despite wasting billions of rupees & precious time, it could not complete any project for resolution of water & electricity issues for the locals who gave great sacrifices for Gwadar port. — Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) June 4, 2022 شہباز شریف نے مزید کہا کہ گوادر کی بندرگاہ اور گوادر ہوائی اڈے کی تعمیر کا بھی یہی حال ہے۔ بندرگاہ پر کوئی ڈریجنگ نہیں کی گئی اور اس طرح کوئی بڑا کارگو جہاز لنگر انداز نہیں ہو سکتا۔ گوادر یونیورسٹی، ایئرپورٹ اور پینے کے صاف پانی کے لیے ڈی سیلینیشن پلانٹ کی تنصیب کو جلد مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔ The same holds true for Gwadar seaport & construction of Gwadar airport. No dredging was carried out at seaport & thus no large cargo ship can be anchored. Have ordered quick completion of Gwadar University, airport & installation of desalination plant for clean drinking water. — Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) June 4, 2022

Jun 04, 2022 | 12:02:PM
پاکستان کے جی ڈی پی میں کمی، گلوبل اکانومی انڈیکس نے تفصیلات جاری کردیں DAILY PAKISTAN

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان  کی جی ڈی پی کا حجم 2022 میں 282 ارب ڈالر رہنے کی توقع ہے۔گلوبل اکانومی انڈکس کے مطابق اگر جی ڈی پی کا تعین ڈالر کی قیمت کی مناسبت سے کیا جائے تو گزشتہ تین سالوں میں اس میں کمی واقع ہوئی ہے۔گزشتہ چند سالوں کے دوران پاکستان کا جی ڈی پی مسلسل بڑھ رہا تھا لیکن مالی سال 20-2019 میں اس کے حجم میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔تفصیلات کے مطابق سال 16-2015 میں جی ڈی پی کا حجم 30 ہزار 508 ارب روپے تھا جو مالی سال 17-2016 میں 31914 ارب روپے ہو گیا جبکہ مالی سال 18-2017 میں جی ڈی پی کا سائز 33859 ارب 60 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔آدارہ شماریات کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 19-2018 میں جی ڈی پی کا حجم 34916 ارب روپے تک پہنچ گیا تھا جو اگلے مالی سال یعنی 20-2019 میں کم ہوکر 34588 ارب 70 کروڑ روپے رہ گیاتھا۔مالی سال 21-2020 میں جی ڈی پی کا حجم 36572 ارب 60 کروڑ تک پہنچ گیا جبکہ رواں مالی سال جی ڈی پی کا حجم 38755 ارب روپے رہنے کی توقع ہے۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق 20-2019 میں جی ڈی پی کے حجم میں کمی کی وجہ کورونا کی وبا تھی جسکی وجہ سے مسلسل اکاونومی میں کمی ہو رہی ہے۔گزشتہ برسوں میں گلوبل اکانومی کے مطابق سال 2015 میں پاکستان کی جی ڈی پی 270 ارب 60کروڑ ڈالر تھی جو 2016 میں 278 ارب 70 کروڑ ڈالر ہو گئی۔ اسی طرح 2017 میں پاکستان کی جی ڈی پی کا حجم 304 ارب ڈالر تک پہنچ گیا جبکہ 2018 میں یہ 314 ارب 60کروڑ ڈالر تک بڑھ گیا لیکن 2019 اور 2020 میں یہ کم ہونا شروع ہو گیا جس کی وجہ پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں اضافہ ہے۔2019 میں جی ڈی پی کا حجم 35 ارب 50 کروڑ ڈالر کمی سے 279 ارب 10 کروڑ ڈالر تک آ گیا اور سال 2020 میں مزید کم ہو کر 262 ارب 60 کروڑ ڈالر رہ گیا۔اسی طرح سال 2021 سے پاکستان کی جی ڈی پی میں دوبارہ اضافہ شروع ہوا اور یہ بڑھ کر276 ارب ڈالر ہو گیا، ملکی جی ڈی پی کا حجم 2022 میں 282 ارب ڈالر رہنے کی توقع ہے۔

Jun 03, 2022 | 14:34:PM
وفاقی حکومت نے کھاد کی قیمتیں کم کر دیں DAILY PAKISTAN

اسلام آباد (ویب ڈیسک) حکومت نے ملک بھر میں کھاد کی قیمتوں میں کمی کرتے ہوئے یوریا کھاد کی سرکاری سطح پر قیمت مقرر کردی ہے جس کا وزرات صعنت و پیدوار نے یوریا کھاد کی قیمتوں میں کمی کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق 50 کلو یوریا کھاد کی بوری کی قیمت میں389 روپے تک کمی کی گئی ہے جس کے بعد اس کی نئی ریٹیل قیمت 1768 روپے ہوگئی ہے۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ قیمت کا اطلاق فوری ہوگا، 7 جولائی 2022 تک یہ قیمت نافذ العمل رہے گی۔ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ حکومت فرٹیلائزر سیکٹر کو گیس پر سبسڈی فراہم کر رہی ہے،  سبسڈی والی گیس پر کھاد کی قیمت میں اضافہ بلاجواز ہے۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ سبسڈی کا ریلیف کسانوں کو منتقل ہونا چاہیے، منافع خوری روکنے کے لیے قیمت مقرر کرنا ضروری ہوگیا تھا۔ وزرات صعنت و پیدوار کے نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ فیصلے پر عملدر آمد نہ ہونے پر کارروائی کی جائے گی، فیصلے کے تحت یوریا کی مناسب قیمت پر دستیابی کو یقینی بنایا جائے گا، کھاد کی قیمتوں میں اضافے سے نیشنل ایمرجنسی کی صورتحال نے جنم لیا۔صوبائی حکومتوں اور اسلام آباد انتظامیہ کو عملدرآمد کے لیے نوٹیفکیشن بھجوا دیا گیا ہے۔

May 27, 2022 | 13:16:PM
حکومت کا کسان کو براہ راست کھاد پر سبسڈی دینے کیلئے ڈیلرز کو رجسٹر کرنے کا فیصلہ DAILY PAKISTAN

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )حکومت نے منسٹری آف نیشنل فوڈ سیکیورٹی اور صوبائی حکومتوں کے ذریعے کسانوں کو کھاد پر براہ راست سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہےجس کیلئے ملک بھر سے کھاد ڈیلرز کو رجسٹر کیا جائے گا ۔انگلش جریدے ایکسپریس ٹربیون کے مطابق گزشتہ روز وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار مخدوم سید مرتضی محمود کی زیر صدارت کھاد کی جائزہ کمیٹی کا اجلاس ہوا، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کھاد کے ڈیلروں کی طرف سے مارکیٹ میں ہیرا پھیری کو ختم کرنے کے لیے انہیں رجسٹر کیا جائے ، واضح رہے کہ سابق حکومت نے بھی فرٹیلائزرز پر زوردیا تھا کہ وہ کھاد کو بلیک کرنے والے ڈیلرز کو بلیک لسٹ کریں۔ حکومت نے کھاد کی ذخیرہ اندوزی اورسمگلنگ روکنے کیلئے وزارت داخلہ کے تحت ایک ٹاسک فورس قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں، فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور صوبائی محکموں پر مشتمل ہے تاکہ یوریا کی سرحد پار غیر قانونی نقل و حرکت کو روکا جا سکے، جبکہ فرٹیلائزرزنے حکومت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ کھاد ڈیلرز کو متعلقہ صوبائی محکموں میں رجسٹر کیا جائے گا۔وفاقی وزیر سید مرتضی محمود کی زیر صدارت اجلاس میں زرعی محکموں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ بوائی کے سیزن میں ڈی اے پی کھاد کی پیداوار میں 14 فیصد کمی واقع ہوئی تھی جس سے کھاد کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور کھاد کی مطلوبہ مقدار نہ ملنے کی وجہ سے فصلوں کی پیداورا میں بھی کمی سامنے آئی ہے۔وفاقی وزیر نے کسانوں کی جانب سے یوریا کھاد کیساتھ ڈی اے پی کھاد کی زبردستی خریداری کی شکایت پر حکومتی اداروں کو کسانوں کی شکایت دور کرنے کا حکم دیا ،واضح رہے کہ اس وقت ڈی اے پی کھادکی فی بوری کی قیمت اس وقت 10ہزار روپے سے بھی بڑ ھ گئی ہے ۔

May 12, 2022 | 15:29:PM
یو اے ای کے تعاون سے پنجگور میں کھجور پروسیسنگ فیکٹری نے پیداوار شروع کردی DAILY PAKISTAN

ابو ظبی(ویب ڈیسک) متحدہ عرب امارات پاکستان ازسٹنس پروگرام (یو اے ای- پی اے پی) کے تحت بلوچستان کے علاقے پنجگور میں کھجوروں کی پروسیسنگ فیکٹری نے تجارتی پیمانے پرپیداوار شروع کردی ہے ،یہ فیکٹری ابوظہبی فنڈ برائے ترقی (اے ڈی ایف ڈی) کی جانب سے فراہم کردہ 63 لاکھ 60ہزار امریکی ڈالر کی لاگت سے یو اے ای- پی اے پی کی جانب سے بلوچستان کے ضلع پنجگور میں قائم کی گئی ہے۔ روزنامہ جنگ کے مطابق  پاکستان دنیا میں کھجوروں کی پیداوار کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے ۔ یہ منصوبہ 5ہزار 710 مربع میٹر کے رقبے پر تعمیر کیا گیا ہے، جس میں بین الاقوامی معیارات کے مطابق کھجوروں کی پروسیسنگ، پیکجنگ اور ذخیرہ کرنے کی سہولت میسر ہے۔ اس کی 15پروڈکشن لائنوں کی پیداواری صلاحیت 4ٹن فی گھنٹہ، یا 32ہزارٹن یومیہ سے زیادہ ہے، اس کا ریفریجریشن نظام 1ہزار 500ٹن تک تیار شدہ کھجوریں ذخیرہ کر سکتا ہے۔ اس منصوبے سے مستفید ہونے والے علاقوں کے متعدد کسانوں نے پنجگور میں کھجور کی پروسیسنگ فیکٹری کے افتتاح پر خوشی کا اظہار کیا جس سے انہیں اپنی کھجور کی مصنوعات کی مارکیٹنگ میں مدد ملے گی۔ اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے یو اے ای- پی اے پی کے ڈائریکٹر عبداللہ خلیفہ الغفلی نے کہا کہ رمضان کے مقدس مہینے کے آغاز سے پنجگور میں کھجوروں کی پروسیسنگ فیکٹری میں پیداوار شروع ہورہی ہے جس سے پاکستانی خاندانوں کو ان کے افطار کی اہم خوراک فراہم ہوگی۔ انسانی ہمدردی کے شعبے میں متحدہ عرب امارات کی اہم حکمت عملی کو اجاگر کرتے ہوئے الغفلی نے ان کی تنظیم کی جانب سے پاکستان میں انسانی ہمدردی کے پروگراموں اور ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے متحدہ عرب امارات کی قیادت کی حمایت کو سراہا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ پاکستان میں کھجور کی پیداوار کے ایک نئے مرحلے کے آغاز کی نمائندگی کرتا ہے، جس سے اس کی زرعی وسائل میں دلچسپی بڑھے گی اور غذائی تحفظ کی پالیسی کو سپورٹ کیا جائے گا۔

Apr 25, 2022 | 13:09:PM
  پنجاب میں گندم کی پیداوار کم ہونے کا خدشہ DAILY PAKISTAN

لاہور (ویب ڈیسک) ربیع سیزن کے دوران معمول سے کم بارشوں اور درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کی وجہ سے اس سال پنجاب میں گندم کا پیداواری ہدف متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پروگریسو فارمر اور ایگری ری پبلک کے سربراہ عامرح یات بھنڈارا کہتے ہیں گندم کی مجموعی پیداوار میں 6 سے 9 فیصد تک کمی آئی ہے، جن علاقوں میں گنم کی اوسط پیداوار 40 سے 50 من فی ایکڑ تھی وہ کم ہو کر 32 سے 40 من تک آگئی ہے۔ ماہرین کے مطابق قبل از وقت گرمی کی لہر نے کئی اضلا ع میں گندم کی فصل کو متاثر کیا ہے تاہم محکمہ زراعت کے حکام کا کہنا ہے جو فصل بروقت کاشت کی گئی تھی اس کی پیداوار میں بہتری آئی ہے، دوسری طرف لاہور میں پروگریسو فارمر نے غیر روایتی طریقے سے کاشت کی گئی گندم سے معمول سے 10 سے 15 من فی ایکڑ زیادہ پیداوار حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پنجاب کراپ رپورٹنگ سروس کے مطابق اپریل کے وسط تک پنجاب میں مجموعی طور پر 75 فیصد گندم کی فصل کی کٹائی کی جاچکی ہے۔ سروے کے مطابق بارانی علاقوں میں 32.32 من فی ایکڑ پیداوار آئی ہے جو کہ گزشتہ برس 33 اعشاریہ 21 فیصد تھی۔ مجموعی طور پر بارانی اور آب پاشی علاقوں میں گندم کی پیداوارمیں گزشتہ سال کی نسبت اعشاریہ ایک فیصد کمی ریکارڈکی گئی ہے تاہم دوسری طرف کاشت کار اس سروے کو حقائق پر مبنی تصور نہیں کرتے۔پروگریسو فارمر اور ایگری ری پبلک کے سربراہ عامرحیات بھنڈارا نے کہا کہ گندم سمیت دیگر فصلوں کی پیداوارمیں کمی کی کئی وجوہات ہیں جن میں موسمیاتی تبدیلی، زرعی پانی کی کمی ، کھاد اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ روس اور یوکرائن جنگ کی وجہ سے بھی ہمیں گندم کی قلت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ زراعت پنجاب نے اس سال گندم کا پیداواری ہدف 20 اعشاریہ پانچ ملین ٹن رکھا ہے، جنوبی پنجاب میں مارچ کے آخر اور اپریل کے شروع میں درجہ حرات بڑھنے سے گندم کی فصل جلد تیارہوگئی جبکہ دانے بھی نہیں سکڑے تاہم سینٹرل پنجاب میں فصل کی تیاری اور اس کی کٹائی دیر سے ہوتی ہے اور اس وقت درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب پہنچ جاتا ہے، اس وجہ سے گندم کادانہ سکڑ گیا ہے اس سے اوسط پیداوار میں کمی آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب اپریل کے وسط تک گندم کی مجموعی پیداوار 20.36 ملین ٹن کی توقع تھی لیکن یہ توقع سے کم رہی ہے۔ محکمہ زراعت پنجاب کے حکام پرامید ہیں کہ ابھی چونکہ لاہور، فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں گندم کی کٹائی کاعمل جاری ہے جو مئی کے وسط تک مکمل ہوگا تو قوی امکان ہے کہ ہم اپنے پیداواری ہدف کے قریب پہنچ جائیں گے تاہم ماہرین کوخدشہ ہے کہ اس سال پنجاب میں گندم کی پیداوارمیں ایک سے دو لاکھ ٹن کمی آسکتی ہے۔ ڈائریکٹرجنرل محکمہ زراعت (توسیعی) پنجاب ڈاکٹر انجم علی نے  کہا کہ ہم پرامید ہیں کہ گندم کا پیداواری ہدف پورا ہوگا، جن علاقوں میں گندم کی فصل تاخیر سے کاشت کی گئی اور قبل از وقت شروع ہونے والی گرمی کے لہرکے دوران کسانوں نے فصلوں کو پانی نہیں دیا ان علاقوں میں گندم کی پیداوار متاثر ہوسکتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس سال چونکہ بارشیں معمول سے کم ہوئی ہیں جبکہ پہاڑوں پر برف پگھلنے کا عمل بھی متاثر ہوا تو اس وجہ سے محکمہ انہار نے مارچ میں نہری پانی میں 47 فیصد کمی کردی تھی اسی طرح کئی علاقوں میں زیر زمین پانی کھارا ہے جو فصلوں کو نہیں لگایا جاسکتا تھا اس وجہ سے گندم کا دانہ متاثر ہوا ہے۔ دوسری طرف لاہور سے تعلق رکھنے والے ترقی پسند کاشت کار اور زرعی ماہر سید بابرعلی بخاری نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے موجودہ نامساعد حالات کے باوجود گندم کی فی ایکڑ پیداوار 50 من فی ایکڑ حاصل کی ہے جو اس علاقے میں معمول کی پیداوار سے 10 سے 15 من فی ایکڑ زیادہ ہے۔بابرعلی نے بتایا کہ انہوں نے گندم کی بہتر پیداوار کے لیے آرگائنک فارمولا استعمال کیا ہے جس سے نہ صرف فی ایکڑ پیداوار زیادہ آئی ہے بلکہ گندم کے سٹے کا سائز اور دانوں کی تعداد بھی عام گندم کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

Apr 22, 2022 | 15:58:PM
حکومت نے یوریاایکسپورٹرز اور مینوفیکچررز کیلئے 96ارب روپے کی سبسڈی کی منظوری دے دی  DAILY PAKISTAN

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اقتصادی رابطہ کمیٹی نے  یوریا ایکسپورٹرزاور یوریا مینو فیکچرز کو سبسڈی دینے کیلئے 96ارب روپے  کی سبسڈی کی منظوری دے دی۔گزشتہ روز وزیر خزانہ شوکت ترین کی زیر قیادت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس  دوران ہدایت کی  گئی کہ ایک ماہ کے اندر 2یوریا پلانٹس کو سسٹم گیس پر منتقل کرنے کے عمل کو تیز کیا جائے ۔ انگریزی جریدے ایکسپریس ٹربیون کے مطابق وزارت خزانہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر خزانہ شوکت ترین نے بدھ کو ای سی سی کے اجلاس کی صدارت کی اور 2021سے 2026تک کی مدت کے لیے ڈرا بیک آف لوکل ٹیکسز (ڈی ایل ٹی) سکیم کی سمری کی منظوری دی۔ای سی سی نے 1 جولائی 2021 سے 30 جون 2026 تک کی مدت کے لیے ڈی ایل ٹی سکیم کے لیے نظرثانی شدہ شرحوں کی منظوری دی۔ یہ سکیم شعبوں کے ساتھ ساتھ برآمد کرنے والی فرموں کی برآمدی کارکردگی پر اس کے اثرات کا اندازہ لگانے کے لیے سہ ماہی جائزوں سے مشروط ہو گی۔انگلش جریدے نے  نیشنل فرٹیلائزر ڈیویلپمنٹ سنٹر (این ایف ڈی سی)کے حوالے سے بتایا کہ اگر دونوں پلانٹ فاطمہ فرٹیلائزراور ایگریچ فرٹیلائزر اگر 31مارچ کے بعد نہیں چلتے تو 2لاکھ ٹن یوریا کا حدف حاصل نہیں کر سکیں گے اور اگست کے بعد سے کمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ای سی سی نے پٹرولیم ڈویژن کو مراسلہ جاری کیا ہے کہ 31مارچ کے بعد سے دونوں فرٹیلائزر پلانٹس کو گیس کی فراہمی یقینی بنائی جائے ۔

Mar 31, 2022 | 11:38:AM
ملک میں کھاد بحران ،  پیپلز پارٹی نے تحقیقات کا مطالبہ کردیا  DAILY PAKISTAN

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) پیپلزپارٹی کی مرکزی رہنما ا ور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے ملک میں جاری کھاد بحران کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نااہل وفاقی حکومت کھاد بحران کے حل کی بجائے سیاست اور الزام تراشی میں مصروف ہے۔ ڈاکٹر نفیسہ شاہ نےکہا کہ آٹا,چینی،گندم بحران کے بعداس وقت ملک کو کھاد کےبحران کاسامناہے،ملک میں کھادکابڑھتابحران باعث تشویش اور کئی سوالات کو جنم دیتا ہے ،نا اہل وفاقی حکومت بحران کے حل کی بجائے سیاست اور الزام تراشی میں مصروف ہے، وفاقی وزرا دوسروں پر الزام لگانے کی بجائے اپنے گریبان میں جھانکیں۔ڈاکٹر نفیسہ شاہ نےکہا کہ علی زیدی گھوٹکی سےآپ کےوزیر کھاد چرا کر لے گئے ہیں، گھوٹکی والے پہلے سے ہی غصے سے بھرے بیٹھے ہیں،کھاد کا بحران اسی طرح جاری رہا تو گندم کے فصل کو شدید نقصان ہو سکتا ہے، کھاد کے پیدا ہونیوالے بحران کے باعث ملک میں غذائی قلت کا بھی شدید خدشہ ہے،وفاقی حکومت بحران کو تسلیم کرنے اور حل نکالنے کی بجائے عوام کے جائز خدشات اور تشویش کو جھوٹ قرار دیکر غلط بیانی سے کام لے رہی ہے۔ڈاکٹر نفیسہ شاہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس وقت کسان اور عوام شدید پریشانی میں مبتلا ہیں، کھاد کے حصول کے لئے کھاد لے جانی والی گاڑیوں پر حملے ہو رہے ہیں، کھاد بحران کے حل کے لئے بروقت اقدامات کیوں نہیں اٹھائے گئے،پیپلزپارٹی آٹا، چینی اور گندم بحران کی طرح کھاد بحران کے معاملے کو دبنے نہیں دے گی۔ حکومت تحقیقات کرے کہ کھاد بحران کے اصل ذمہ داران کون ہیں؟ اورعوام کو بتایا جائے کہ ملک میں کھاد بحران کی وجوہات کیا ہیں؟۔

Jan 17, 2022 | 00:35:AM
نیشنل ہائی وے پر دھرنا، کینو کے 250 کنٹینرز پھنس گئے DAILY PAKISTAN

کراچی (ویب ڈیسک) نیشنل ہائی وے پر دھرنے کے نتیجے میں پنجاب سے کراچی بندرگاہ آنے والے کینوکے 250 کنٹینرز دھرنے کی وجہ سے پھنس گئے۔ قاضی احمد میں نیشنل ہائی وے پر دھرنے کے نتیجے میں پنجاب سے زرعی مصنوعات کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ پید اہوگیا ہے،  پنجاب سے کراچی بندرگاہ آنے والے کینوکے 250 کنٹینرز دھرنے کی وجہ سے پھنس گئے۔پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز، امپورٹرز و مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی ایف وی اے) کے سرپرست اعلیٰ وحید احمد کے مطابق اس صورتحال سے کینو کے بر آمدکنندگان کو شدید مشکلات کا سامنا ہے،کینو کے مزید کنٹینرز بھی پنجاب سے روانہ ہورہے ہیں اوربرآمدی کنٹینرز لے کر جانے والا جہاز کل روانہ ہو گا، اگر کینو بروقت بندرگاہ نہ پہنچے تو 4 ملین ڈالر کا نقصان ہوگا۔وحید احمد کا کہنا تھا کہ کینو کی ایکسپورٹ پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے، زائد سمندری کرایوں اور کنٹینرز کی قلت کی وجہ سے رواں سیزن کینو کی ایکسپورٹ 3 لاکھ ٹن تک محدود رہنے کا امکان ہے جبکہ احتجاج اور دھرنے کی وجہ سے کینو کا بر آمدی ہدف مشکل میں پڑگیا ہے۔انھوں نے حکومت سندھ سے اپیل کی کہ مظاہرین سے مذاکرات کرکے جلد از جلد نیشنل ہائی وے پر ٹریفک کی روانی بحال کرائی جائے۔

Dec 22, 2021 | 11:33:AM
کسانوں کا قومی دن ، ملکی ترقی میں کسانوں کی اہمیت کا علمدار DAILY PAKISTAN

تحریر: غلام نبی انسان کی غذائی ضروریات زیادہ ترکھیتوں اور باغوں سے پوری ہوتی ہیں۔اور کسان ہی وہ محسن ہیں جو ہمارے لئے خوراک کی فراہمی کو یقینی بناتے ہیں۔ جون جولائی کی جھلسا دینے والی گرمی ہو یا دسمبر جنوری کی جما دینے والی ٹھنڈک، یہ ہر موسم کی شدت کو برداشت کرتے ہوئے ہمارے لئے ضروریات مہیا کرتے ہیں۔ان کی محنت سے فائدہ اٹھانے والے لوگ تومعاشی ترقی کے بام عروج پر پہنچ جاتے ہیں، لیکن یہ بے چارے کسان اکثر وبیشتر معاشی ترقی کے سفر میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔فاطمہ فرٹیلائزر کسانوں کی بہتری کے لئے ہمیشہ بہت آواز اٹھاتی رہی ہے۔کیونکہ کسانوں کی ترقی سے ہی ملک کی ترقی ہے۔ ان کسانوں کی محنت کو سلام پیش کرنے کے لئے فاطمہ گروپ نے 2019میں 18 دسمبر کو کسانوں کے نام سے منسوب کردیا کیونکہ بلاشبہ یہی لوگ قوم کے لیے غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے ذمہ دار ہیں ۔ کسان ڈے کو اس لئے بھی متعارف کرایا تاکہ اس دن اسٹیک ہولڈرز اور پالیسی سازوں کو مکالمے میں شامل کر کے کسانوں کی اہمیت اور معاشرے میں ان کے کردارکو بلند کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم میسر آسکے۔اس طرح نہ صرف کسانوں کے مسائل سنے جاسکیں گے بلکہ ان کاحل بھی نکالا جائے گا۔بھوک اور غذائیت کی کمی سے نمٹنے کے لیے ملک میں خود کفیل زرعی شعبے کی تشکیل کے لیے کوششیں کرناضروری ہیں۔ کسانوں کے مسائل کے لیے جدید تقاضوں کے مطابق حل لانا اور منافع بخش کاشتکاری کے حصول میں ان کی مدد کرنا پاکستان کے غذائی تحفظ کے چیلنجوں سے نمٹنے کا واحد آپشن ہے۔ اس کے لیے زرعی شعبے کو جدید بنانا اور اسے پاکستان کی اقتصادی ترقی کامحور بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔مختلف عوامل بشمول موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات جن کے نتیجے میں درجہ حرارت میں اضافہ، بے ترتیب بارشوں سمیت بہت سے مسائل نے صورت حال کو مزید خراب کر دیا ہے جس سے نہ صرف قومی غذائی ضروریات کو پورا کرنے میں مشکلات درپیش ہیں بلکہ معیشت بھی متاثر ہو رہی ہے۔اگر ہمارے زرعی شعبے کو جدید بنایا جائے اور زرعی شعبے کی اکثریت پر مشتمل چھوٹے کسانوں کو بااختیار بنایا جائے تو ان تمام چیلنجز سے موثر اندازسے نمٹا جاسکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں فوڈ سکیورٹی بڑھے گی اور بھوک کا خاتمہ ہوگا۔فاطمہ فرٹیلائزکی جانب سے کسان ڈے منانے کے فیصلے کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ فصلوں کی زیادہ پیداوارکے لئے لائحہ عمل وضح کیا جائے اورکاشتکاروں کو بہتر طرز زندگی فراہم کرنے میں مدد کی جائے۔ یہ دن کسانوں کے لئے بہت سودمند ثابت ہوگا۔ ملک کے اس اہم طبقے کے بارے میں ضروری معلومات سے لوگ لاعلم رہتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو چوبیس گھنٹے کام کرتے ہیں اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ملک میں سب کی غذائی ضرورت پوری ہو مگروہ خود اکثر بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہوتے ہیں۔کسان ہم سب کی زندگی سے جڑے ہیں مگر اس کے باوجود، بہت سے لو گ ان کو درپیش مسائل سے واقف نہیں ہیں۔معاشرے میں کسانوں کی مدر کے حوالے سے آگہی پیدا کرنے اور ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں عزت سے نوازنا کسان ڈے کا مقصد ہے۔ کسانوں کے دن کے حوالے سے نہ صرف مہم چلائی جاتی ہے بلکہ اس دن فاطمہ فرٹیلائزر کی نگرانی میں متعدد تقریبات کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے جس میں حکومتی معززین، سفارت کار، زراعت کے ماہرین اور کسان برادری کے اراکین شرکت کرتے ہیں۔اس موقع پر ہونے والی گفتگو سے کسانوں کو درپیش مشکلات ملکی سطح پر رکھنے کا موقع ملتا ہے۔ دیہی برادری کی فلاح و بہبود کے لئے اس دن کو منانا بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ملکی سطح پر تقریبات کا انعقاد کسانوں کے لئے مفید ثابت ہونے کے ساتھ ساتھ انہیں خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے میںمدددے گا۔ تقریبات میں ان کو خراج تحسین پیش کرنے سے ان کا حوصلہ بھی بڑھے گا اور ان میں کا م کرنے کے جذبے میں اضافہ ہوگا۔ اس طرح کی تقریبات ان مسائل کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کرنے کا کام کرتی ہیں اور زرعی شعبے کی تازہ ترین معلومات سے خود کسانوںکو بااختیار بنانے پر بھی توجہ مرکوز کرتی ہیں۔کسانوں کا دن منانا اس لیے بھی ضروری ہے کہ مباحثے کے سیشنز کے ذریعے کسانوں اور کاشت سے متعلق مختلف مسائل کو اجاگر کیا جا سکتا ہے اور حکومت اور نجی شعبے ان کے حل کے لیے کوششیں کر سکتے ہیں۔ کسانوں کا دن منانے سے جی ڈی پی میں زراعت کی شراکت کو بڑھانے، بڑی فصلوں کی پیداوار میں اضافہ، کھاد، جدید ٹیکنالوجی، بیج وغیرہ کے استعمال میں اضافہ کرنے کے اقدامات کو اجاگر کیا جاسکتا ہے جس سے لاگت کو کم کر کے کسانوں کو راحت حاصل ہوگی اور مجموعی طور پر ریاست کو بہتر بنایا جا سکے۔ اس سال تیسرا کسان ڈے منایا جارہاہے ۔ اس موقع پر چھوٹے کسانوں کو ان کی فصلوں کی پیداوار بڑھانے، ان کی مناسب قیمت حاصل کرنے اور مارکیٹ تک رسائی کو بہتر بنانے میں سہولت فراہم کرنے کے اپنے عزم کو دہرانے کی ضرورت ہے۔

Dec 18, 2021 | 12:24:PM
تحریک انصاف کی  حکومت میں زراعت کےشعبہ میں ملک نےکتنی ترقی کی ؟وفاقی  وزیرفخرامام کا اعداد و شمار کےساتھ حیران کن دعوی DAILY PAKISTAN

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ سید فخرامام نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے زراعت کے شعبے پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں، گزشتہ دوسالوں کے مقابلے میں پچھلے سال پانچ فصلوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا، کاشتکاروں کی آمدنی میں اضافہ دیکھا گیا۔ وزیراطلاعات و نشریات چوہدر ی فواد حسین کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےسید فخر امام نے کہا کہ پاکستان میں زراعت کی تاریخ 1960ء سے 2000ء تک دیکھی جائے تو اس میں چار فیصد زرعی پیداوار کی گروتھ تھی جبکہ 2000ء سے اب تک تین فیصد گروتھ ہوئی ہے،وزیراعظم عمران خان نے زراعت کے شعبہ کو خصوصی طور پر فوکس کیااور کافی حد تک کامیابی حاصل کی گئی ہے، اس ضمن میں دو سالوں میں خصوصاً پچھلے سال گندم کی فصل جو 37 فیصد رقبہ پر کاشت کی گئی تھی اس میں  دو اعشاریہ دو  ملین ٹن ایک سال قبل سے زیادہ پیداوار حاصل ہوئی تھی جس کو اگر آج کی قیمتوں کے مطابق درآمد کرتے تو نقصان ہوتا، اسی طرح سے کپاس کی اس سال نو ملین گانٹھیں ہوئیں جو کہ پچھلے سال سات ملین تھیں،اس سے 750 ملین ڈالر کافائدہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھان کی فصل کی ریکارڈ کاشت کی وجہ سےدو  اعشاریہ  62 بلین ڈالر ایکسٹرا ایکسپورٹ سے حاصل ہوسکتے ہیں ، اسی طرح مکئی کی فصل پچھلے سال آٹھ اعشاریہ  نو   ملین ٹن تھی جو اس سال نو ملین ٹن تک پہنچی ہے، گنے کی پیداوار 81 ملین ٹن تھی جو کہ اس سال89 ملین ٹن ہوئی جس کی ایکسٹرا چینی اگر برآمد کی جاتی تو اس کی مالیت800 ملین ڈالر بنتی ہے، حکومت نے زراعت کے شعبے کی بہتری کے لئے جو فریم ورک دیا ہے اس میں تمام شعبوں خصوصاً پنجاب نے اپنا حصہ ڈالا اور کاشتکاروں کی آمدن میں 399 ارب روپے تک اضافہ ہوا،مستقبل میں جنرل تعلیم کے علاوہ زرعی تعلیم میں جدت لائی جائے گی، ہماری وزارت میں میکنائزیشن کے ذریعے زرعی پیداوار میں اضافہ کیا جائے گا، ہمیں دودھ کی پیداوار اور دودھ سے بنی ہوئی چیزوں کے پلانٹس لگانے پر توجہ دینی ہو گی اور جانوروں کو دی جانے والی خوراک کی کوالٹی کو بھی بہتر کرنا ہو گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہماری لائیو سٹاک کے شعبے کی 60اعشاریہ  سات جی ڈی پی ہے اور 63 ملین ٹن دودھ کی پیداوار ہے جس میں صرف 60 فیصد پراسس ہوتی ہے، دودھ کی پیداوار کے پراسیس کو بڑھانے کی ضرورت ہے جس سے بہت بہتری آئے گی، وزیراعظم عمران خان مویشیوں کی افزائش نسل کو بڑھانے کے لئے بہت توجہ دے رہے ہیں اور اس میں بہتری سے مویشی پال بھائیوں کامعیار زندگی بلندہو گا،ہم ان تمام شعبوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے جا رہے ہیں۔ سید فخر امام نے کہا کہ دنیا کی صف اول کی 10 صنعتیں ہائی ٹیکنالوجی پر منتقل ہوئی ہیں، ہمیں اس طرف جانا ہے، زراعت اور صنعت کے شعبے وزیراعظم کی خصوصی توجہ کامرکز ہیں، ہمیں اپنے بچوں اور نوجوانوں کو ٹیکنیکل ایجوکیشن کی طرف لے کر جانا ہے تاکہ سٹارٹ اپس کو بڑھایا جاسکے،ہم تحقیق کے شعبوں پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں تاکہ جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے علم و تحقیق کے میدان میں نوجوانوں کی رہنمائی کریں، ہمیں چائنہ کی طرز پر اپنی افرادی قوت ہنر مندبنانا اور فصلوں کی برداشت کے حوالے سے ہمیں جدیدمشینری بنانی ہو گی،چائنہ کے ساتھ مل کر زراعت کے شعبے میں جد ت لارہے ہیں،چینی سائنسدانوں نے ہمیں یقین دہانی کرائی ہے کہ زراعت کے شعبے میں ہر قسم کا تعاون کرنے کوتیار ہیں۔

Dec 09, 2021 | 22:46:PM
زراعت کی بہتری کے لئے حکومت کیا کرنے جا رہی ہے ؟ وزیر مملکت فرخ حبیب نے کسانوں کو خوشخبری سنا دی DAILY PAKISTAN

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب کی زیر صدارت زراعت کے شعبے میں بہتری کیلئے کمیونیکیشن پالیسی کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا،جس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے تحفظ خوراک جمشید اقبال چیمہ، سیکرٹری اطلاعات و نشریات شاہیرا شاہد، پرنسپل انفارمیشن افسر سہیل علی خان، ایم ڈی پی ٹی وی عامر منظور، ڈائریکٹر نیوز اینڈ کرنٹ افئیرز پی ٹی وی مرزا راشد بیگ، ایم ڈی اے پی پی مبشر حسن اور دیگر اعلی حکام نے اجلاس میں شرکت کی، اجلاس میں زراعت کے شعبے میں بہتری کیلئے کمیونیکیشن پالیسی کے حوالے سے غور کیا گیا۔ وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زراعت ایک اہم شعبہ ہے، آبادی کا بہت بڑا حصہ اس شعبے سے منسلک ہے، وزیر اعظم عمران خان کا ویژن ہے کہ تعمیراتی شعبے کی طرح زراعت صنعت کو بھی اٹھانا ہے،وزارت اطلاعات اور ذیلی ادارے زرعی ترقی کو بہتر انداز میں اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ معاون خصوصی جمشید اقبال چیمہ نے بتایا کہ زراعت کیلئے آئندہ مالی سال میں رواں مالی سال سے سات گنا زیادہ بجٹ رکھا گیا ہے،شوگر، ٹیکسٹائل، پیسٹی سائیڈ، فلور ملز، رائس ملز انڈسٹری کی حوصلہ افزائی کریں گے،سابقہ دور میں کسانوں کا بری طرح استحصال کیا گیاجس سے زراعت کا نقصان ہو ا،موجودہ  حکومت نے سبسڈی کے لئے 680 ارب روپے کے خطیر فنڈز مختص کئے۔ جمشید اقبال چیمہ نےکہا کہ گندم ،گنے کی امدادی قیمت مقرر کی جاتی ہے ،باقی ساری فصلیں اوپن ہیں،سابقہ دور میں گنے کی کم قیمت دے کر کسان کی جیب پر90 ارب کا ڈاکہ ڈالا گیا، پہلی ترجیح کسان ، دوسرا ماحولیاتی آلودگی سے پاک صنعتکاری کا فروغ ہے، حکومت نے اس مقصد کے لئے آئندہ مالی سال میں 10ارب روپے مختص کئےہیں،کم درجہ حرارت والےعلاقوں میں کسانوں کو60 ٹن سویابین کابیج دیاہے،ڈیرہ اسماعیل خان کو دالوں کی مارکیٹ بنا رہے ہیں،فاٹا میں ریسرچ سنٹرز بنا رہے ہیں۔

Jun 25, 2021 | 23:23:PM